افسوس ازقلم فاریہ علی

Education posted on 12/12/2020 3:08:35 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 849

افسوس  ازقلم فاریہ علی
آج مرنے کی دہلیز پر کھڑی میں اپنے پورے وجود پر غور کر رہی تھی میرے پورے جسم میں سوائے ہڈیوں کے اور گوشت جو کہ کمزوری کی وجہ سے لٹکا ہے اور کچھ نہ پایا وہ حسن جس پر کبھی بڑا مان ہوا کرتا تھا وہ بالکل ہی ڈھل چکا ہے وقت جیسے پر لگا کر اڑ چکا ہوں ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ مجھے یاد آیا جو چھوٹے ہوتے ہیں ماں کے ایک بار پیار سے فاریہ کہنے پر اپنے کالے بالوں میں کنگھا کروایا کرتی تھی اب ان میں چاندی اچکی ہے

افسوس 

ازقلم فاریہ علی

آج مرنے کی دہلیز پر کھڑی میں اپنے پورے وجود پر غور کر رہی تھی میرے پورے جسم میں سوائے ہڈیوں کے اور گوشت  جو کہ کمزوری کی وجہ سے لٹکا ہے اور کچھ نہ پایا وہ حسن جس پر کبھی بڑا مان ہوا کرتا تھا وہ بالکل ہی ڈھل چکا ہے وقت جیسے پر لگا کر اڑ چکا ہوں ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ مجھے یاد آیا جو چھوٹے ہوتے ہیں ماں کے ایک بار پیار سے فاریہ کہنے پر اپنے کالے بالوں میں کنگھا کروایا کرتی تھی اب ان میں چاندی اچکی ہے میرے عشق و محبت کے سارے افسانے فسو ہوچکے تھے  میرے چہرے پر جھریاں پڑ چکی ہیں  عمر رفتہ کے ہر دن میرے چہرے پر گویا کہ کش لگا دیے ہو میری ساری باتیں تحت شعور میں جا رہی ہیں پھر مجھے میری آنکھوں کا خیال آیا یہ وہی آنکھیں ہیں جس کی تعریف نہ جانے کتنے لوگوں نے کی تھی بڑی بڑی اور خوبصورت مگر قدرت کا قانون اور وقت کا کرشمہ یہ تھا کہ اب یہ اندر جا چکی ہیں اور اتنی کمزور ہوچکی ہیں چشمے کے بغیر دیکھنے کا تو تصور ہی پیدا نہیں ہوتا میرا ذہن میرے منہ کے خالی حصے کو محسوس کرنے لگا کہ یہاں کبھی دانت ہوا کرتے تھے میری نظر میرے ہاتھوں پر پڑی  یہ وہی ہاتھ ہے جس نے اپنی أدھی زندگی اپنے بچوں کے لئے روٹی سالن پکاتے ہوئے گزار دی اور گھر کے کام کاج بھی کیے مگر اب یہ سوکھ کر بالکل ہی ڈھانچہ ہو چکے ہیں  ہاتھ کانپنے لگے ہیں اور زبان تو الفاظ ساتھ ہی نہیں دے پا رہی  مجھے میرے پیروں کا درد محسوس ہوا تو یاد آیا کے سردیوں کی وجہ سے پیروں کی ایڑیاں پھٹ چکی ہیں موزوں کے رویے میں کھال اٹک  رہی ہے مجھے اپنی حالت پر یکدم رحم آیا زندگی کے حسین لمحات نے بوڑھے ہونے کا نقشہ ذہن کو کبھی کھینچنے ہی نہیں دیا تھا مگر آج بستر مرگ پر پڑی مجھے سب یاد آ رہا تھا عمر رفتہ کو آواز دے کوئی میرے سارے پیارے مجھ سے دور ہوتے جا رہے ہیں دل کی جو انتہائی قریب تھے وہ گم گشتہ ہوتے جا رہے ہیں اور ایک دل تھا جو خواہشات کے بغیر خولہ پڑا تھا میری زندگی کا سب سے بڑا روگ تو اس وقت میرے ذہن پر پوری طرح حاوی ہیں وہ یہ کہ ساری زندگی دنیاوی گھر  کی تیاری میں مشغول رہی  مگر اب ہمیشہ کے گھر کے لیے دونوں ہاتھ خالی ہیں آج اماں کی بات پوری شدت سے میرے ذہن میں گھر کر گئی اور مجھے رفتہ رفتہ سمجھ بھی آ رہی تھی مگر اب اس کا کیا فائدہ تھا اماں ہمیشہ کہا کرتی تھی  بیٹا فاریہ جاگ رہے ہیں تو سو رہے ہیں جس دن سو گئے اس دن جاگ جائیں گے آج سمجھ آئی اماں ایسا کیوں کہا کرتی تھی مگر اب کیا ہو سکتا ہے میرے پاس سوائے افسوس کے کچھ باقی نہ بچا تھا.

 

مزید فاریہ علی  کے افسانے:خواجہ سرا

 

تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.


Like: