ضمیر

Education posted on 12/13/2020 6:53:04 PM by Abrahim , Likes: , Comments: 0, Views: 661

ضمیر
آج اندر سے شدت پسند آواز آئی شاید اس کو ضمیر کہتے ہیں ہاں اگر حقیقت بولو تو وہ ضمیر آج کل ہم سب میں سے ختم ہوگیا ہے مجھے میرا ضمیر ملامت کر رہا تھا کہ پانچ سالہ بچی اور حرکت اتنی گری ہوئی ہوگی

ضمیر 

ازقلم فاریہ علی 

 

آج اندر سے شدت پسند آواز آئی شاید اس کو ضمیر کہتے ہیں ہاں اگر حقیقت بولو تو وہ ضمیر آج کل ہم سب میں سے ختم ہوگیا ہے  مجھے میرا ضمیر ملامت کر رہا تھا کہ پانچ سالہ بچی اور حرکت اتنی گری ہوئی ہوگی اس کے ساتھ  کہ جی میں آیا سب کو گولی سے اڑا ڈالو مگر خود کو بے بس پا کر خاموشی اختیار کر گئی مگر میرا ضمیر  کہاں خاموشی  اختیار کر سکتا تھا میں بولنے پر بے بس ہو گئی جی میں آیا کہ اللہ سے دعا کرو یا اللہ کی قیامت نازل کر دے پھر میرا ذہن سوچوں میں الجھ سا گیا  پھر دماغ تیزی سے کام کرنے لگا کہ فرعون کے پیروکار ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور فرعون سے بھی بدترین لوگ ہمارے معاشرے میں ہیں اور ہمارا معاشرہ خاموش ہے زینب پہ جو گزری ہم نہیں جانتے مگر ایک کو سزا دلوآنہ کافی نہ ہوگا گل بانو پر جو گزری ہم خاموش رہے آٹھ سالہ بچی ماں باپ کو مٹی تلے ملی اور ہم خاموش رہے  موٹروے پر عورت پر کیا گزری اور ہم خاموش رہے گیارہ ماہ کی بچی اس پر کیا گزری اور ہم خاموش ہے میرے معزز مہمانوں معذرت کے ساتھ میں سچ بولو  گی مگر سب کو بری لگو گی مگر مجھے فرق نہیں پڑتا میں حقیقت پسند ہوں اور حقیقت پر ہی لکھوں گی سچ بتائیں آپ خاموش ہیں یا آپ کا ضمیر مر گیا ہے میری پکار کسی نئی جنگ کی نہیں ہے یا آزادی کے لیے نہیں ہیں میں اس ہی آزادی میں مطمئن اور پرسکون ہو جو آزادی ہمیں چودہ سو سال پہلے دی جا چکی ہے میرے قدم اس پر ہی پختہ ہے  جو آزادی ہمیں مل گئی ہے میری آواز اس گند حوس کے خلاف ہیں جو ہمارے معاشرے کو نگلتی جا رہی ہے اے میرے ساتھ مل کر آواز اٹھائے تاکہ کل کو کوئی ننھی  کلی نیا پھول نہ مرجھا جائے تاکہ کل کو کوئی عورت یا کوئی اور  یہ نہ کہ سکے کے عورت مجبوری کا دوسرا نام ہے

 

مزید فاریہ علی  کے افسانے:عورت

 


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.


Like: