مرد محافظ

Education posted on 12/14/2020 5:54:03 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 711

مرد محافظ
میرا دل میری زندگی سے بھرتا جا رہا ہے جی چاہتا ہے معذرت کہ ڈالو ساری پریشانیوں کو اور سانسوں کو خدا حافظ کہہ کر رخ موڑ لو اس دنیا سے میں ٹوٹ سا جاتا ہوں اکثر مستقل سفر کرتے کرتے روح میری تھک جاتی ہے

مرد محافظ 

ازقلم فاریہ علی 

 

میرا دل میری زندگی سے بھرتا جا رہا ہے جی چاہتا ہے معذرت کہ ڈالو ساری پریشانیوں کو اور سانسوں کو خدا حافظ کہہ کر رخ موڑ لو اس دنیا سے میں ٹوٹ سا جاتا ہوں اکثر مستقل سفر کرتے کرتے روح میری تھک جاتی ہے نہ کہ پیر نہ جانے کیوں مجھ سے ذمہ داریاں بڑھا دی جاتی ہیں فقط اتنا کہہ دے کہ لڑکا ہے شاید میرا معاشرہ مجھ سے زیادہ امیدیں وابستہ کر بیٹھا ہے میرا معاشرہ یہ بھولتا جا رہا ہے کہ میری بھی زندگی ہے میں بھی چلتا پھرتا انسان ہوں میری بھی خواہشات ہیں جن کو تکمیل تک پہنچانا میرا کام ہے میرے کندھوں پر پڑنے والی ذمہ داریاں خواہشات سے منہ پھیرنے پر مجبور کر دیتی ہیں کی افغان شرح سی سینے میں باقی رہ جاتی ہے جن کی تاثیر وقت  با وقت  کم ہوتی چلی جاتی ہے ذمہ داریاں اس قدر بڑھتی بڑھتی چلی جاتی ہیں کہ سانس لینا تک دشوار ہو جاتا ہے پھر وقت جس کو لوگ وقت رفاقت کہتے ہیں پھر وہ رفاقت بھی رفاقت نہیں رہتا مجھے بھی احساس ہے ایسا کچھ کر جاؤ جس نے ماں باپ فخر سے کہہ سکے بیٹا ہے ہمارا مگر یہ معاشرہ اکثر ہم لڑکوں کو ہی برا کہتا ہے یوں سمجھ لیجئے جیسے ہر برائی کے پیچھے ہمارا ہاتھ ہو صرف اگر ایک مرد برا ہو تو سب مردوں کو ان میں شمار کیا جاتا ہے اور سب سے پہلے بنت حوا کے منہ سے سننے کو ملتا ہے  کے سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں جب کہ مجھے یہ چیز آج تک سمجھ نہ آ سکی کے سب مرد کیسے ایک جیسے ہو سکتے ہیں جب کہ بنت حوا کی نظر میں اس کا بھائی اس کا باپ اس کا بیٹا دنیا کے سب سے اچھے مرد ہیں جب کہ ہم ہی عورت کی عزت کو تحفظ دیتے ہیں ہم ہی عورت کو ایک مضبوط دیوار کی طرح سہارا دیتے ہیں ہم اپنی بیٹی سے اس قدر محبت کرتے ہیں اور پھر ہمارا جگر حوصلہ اور اعتماد کی حد دیکھو کسی دوسرے مرد کے ہاتھ میں تین بول بول کے ہاتھ تھما دیتے ہیں پھر معاشرہ کیوں نہیں واقف ہمارے احساسات سے جذبات سے اور کیوں کہا جاتا ہے کے سب مرد ایک جیسے ہوتے ہیں ایسا نہیں ہے مگر معذرت کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا اگر ایک مرد برا ہے تو لازم نہیں سب مرد برے ہو جیسے ہاتھ کی پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں ویسے ہی ہم مرد برابر نہیں ہوتے ہاں یہ حقیقت ہے ہم مردوں کو مرد ہونے پر تھوڑا غرور ضرور ہوتا ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ کسی کی عزت کو پیروں تلے روند ڈالیں اگر میں اپنی بیٹی کو تحفظ دیتا ہوں تو میں دوسروں کی بیٹیوں کو بھی تحفظ دونگا اس میں میری پرورش یہ بتائیں کہ مجھے کس ملکہ نے پالا ہے  میری پرورش کیسی ملکہ نے کی ہے  مجھے فخر ہے اپنے مرد ہونے پر مگر خدارا معاشرے والوں سے التجا ہے کہ مجھے بھی انسان سمجھا جائے میرے احساسات اور جذبات کو سمجھ جائے شکریہ

 

مزید فاریہ علی  کے افسانے:ضمیر

 


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.


Like: