ایک نیا عزم

Education posted on 12/15/2020 5:09:56 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 779

ایک نیا عزم
آج اس کی عدت ختم ہو چکی تھی لوگ حوصلہ دینے کا تماشا کمال کا کر رہے تھے اظہار دکھ ایسے کرتے یقین مانو کہ ان سے زیادہ غمگین غمگسار کوئی اور نہ ہو اور پھر بعد میں کانوں میں ہونے والی سرگوشیاں

ایک نیا عزم 

ازقلم فاریہ علی 

 حوصلہ دینے کا تماشا کمال کا  مگر کانوں میں ہونے والی سرگوشیاں۔۔۔

آج اس کی عدت ختم ہو چکی تھی لوگ حوصلہ دینے کا تماشا کمال کا کر رہے تھے اظہار دکھ ایسے کرتے یقین مانو کہ ان سے زیادہ غمگین غمگسار کوئی اور نہ ہو اور پھر بعد میں کانوں میں ہونے والی سرگوشیاں خاموشی میں ہی اپنا حال چیخ چیخ کر بیان کر دیتی کہ کس کے متعلق بات کی جا رہی ہے کون ہے جو اس وقت نشانہ تنقید بنا ہوا ہے عورتیں کہتی بہن دن ہی کتنے ہوئے تھے شادی کو نصیبوں جلی بیچاری بیوہ ہوگی اور کۓ کہتی ارے فوجی کی زندگی ہی ایسی ہوتی ہے سر پر کفن پہن کر گھر سے روانہ ہوتے ہیں اور بہت سی عورتوں نے تو حد ہی کر ڈالی کہتی ہیں کہ لگتا ہے کوئی غم ہی نہیں ہے مگر اس نے صبر کے دونوں راستے جان لیے تھے ایک اللہ پر سب چھوڑ دینا دوسرا اللہ کے لیے سب کچھ چھوڑ دینا اور اس نے صبر کا پہلا راستہ اختیار کرکے اللہ پر سب چھوڑ دیا تھا مگر اس کی آنکھیں حالے غم بیان کر رہی تھی رو رو کے آنکھیں تھک چکی تھی اب تو یقین مانو آنسو بھی خشک ہوتے جا رہے تھے اب توآنسوؤں کا غبار حلق میں آتے آتے اٹک سا جاتا تھا مگر وقت ہر مرض کی بہترین دوا ہے وقت پر لگا کر اڑ چکا تھا اور وہ اپنے غم کو صبر کے ذریعے پی گئی تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے وہ ویران گلی کو پار کر رہی تھی اندھیرے نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا ہر طرف خاموشی اور کتوں کے بھونکنے کی آوازیں سردی کی راتوں کو اور بھی پرسرار سا بنا دیتی ہیں گھر کا دروازہ کھولتے ہی وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھنے ہی لگی تھی کہ اماں کی آواز نے اس کی کوشش کو ناکام بنا دیا عائشہ آج پھر لیٹ کس چیز سے بھاگ رہی ہو یا وقت رفاقت سے جان چھڑوا نہ چاہتی  ہو تمہارا نکاح تحہ ہے اور میں چاہ کر بھی منع نہیں کروں گی مگر اب وہ عورتیں کہتی تھی کہ آج کل لوگ اچھی بھلی لڑکیوں کو نہیں پوچھتے ہیں میں تو پھر بیوہ ہوں خاموش ہو جاؤ بہت ہوگیا بیوہ ہو بیوہ ہو تمہارا نکاح حنان سے ہی ہوگا کزن ہے تمہارا اور جب عورت کو دوسری شادی کا حق میرے عرشوں کے مالک نے دے رکھا ہےتو پھر ہم اس کی دی ہوئی زمین پر رہنے والے یہ حق کیسے چھین سکتے ہیں  ماں کے باتیں  اس پر جادو کی طرح اثر کر رہی تھی وہ ایک نئے عزم کے ساتھ اور کمرے کی طرف بڑھ گئی میرے معزز مہمانوں زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے اگر لڑکی بیوہ یا طلاق یافتہ ہے تو اس کی یہ بات اس کے دل و دماغ پر حاوی نہ کریں اور اگر ہم دین کی نظر سے دیکھ لیں تو عظیم قرار دیا اس شخص کو جس نے بیوہ پر خرچ کیا خدارا اپنے ذہن کو صحیح استعمال کیجیے اپنے نظریات بدلیے باقی آپ مجھ سے زیادہ سمجھ اور عقل و شعور رکھتے ہیں شکریہ

غزل

💔

تمہارے انتظار میں گزرتی ہیں گھڑیاں سب ہی 

کیا فرق پڑتا ہے وقت کیا ہے 

الفت نزاکت رفاقت چھنتے کے جا رہے ہیں معصومیت میری 

کیا فرق پڑتا ہے عمر کیا ہے 

یہ بارش کی بوندیں اداس کرتی ہیں مجھے آج بھی 

کیا فرق پڑتا ہے سبب کیا ہے  

تمہارے وجود سے وابستہ ہیں خوشیاں میری 

کیا تجھے نہیں پتہ میرا مسئلہ کیا ہے

 

-----------------------------------------

مزید فاریہ علی  کے افسانے:مرد محافظ

 


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.


Like: