ڈپریشن اور امید

Education posted on 12/16/2020 10:09:28 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 694

ڈپریشن اور امید
ڈپریشن کوئی مذاق نہیں ہے بہت سے لوگ اِسے مختلف نام دیتے ہیں اس کے حوالے سے عجیب عجیب باتیں کرتے پر جو اس چیز سے اس اسٹیج سے نہیں گزرا ہوا وہ نہیں جانتا اسکا دکھ اُسے نہیں پتہ ڈپریشن کیا ہوتا ہے اور یہ انسان کو کیا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے

ڈپریشن اور امید

 

ڈپریشن کوئی مذاق نہیں ہے

بہت سے لوگ اِسے مختلف نام دیتے ہیں اس کے حوالے سے عجیب عجیب باتیں کرتے 

پر جو اس چیز سے اس اسٹیج سے نہیں گزرا ہوا وہ نہیں جانتا اسکا دکھ اُسے نہیں پتہ ڈپریشن کیا ہوتا ہے اور یہ انسان کو کیا کرنے پر مجبور کر سکتا ہے 

صرف ایک انسان نہیں لاکھوں لوگ سوسائیڈ کر لیتے ہیں دن میں مہینوں میں سالوں میں 

شرا بڑھتی جاتی ہے اسکی کیوں ؟؟ 

کسی کو پیپرز کا سٹریس ہے کسی کو پڑھائی کی شدید ٹینشن لگی ہوئی ہوتی ہے 

کسی کا کاروبار ڈوب گیا تو ڈپریشن ہو جاتا ہے 

کسی کا ریلیشن شپ ناکام ہوا تو اس نے سوچ لیا خود کشی ہی اسکا حل ہے اب 

کیوں بھئی زندگی مذاق ہے کیا ؟؟ 

لیکن میں مانتی ہوں کہیں نہ کہیں حقیقت یہ بھی ہے کے ڈپریشن کھا جاتا ہے انسان کو درد کی شدت ہر کوئی برداشت نہیں کر پاتا. 

ہر کسی کے بس کی بات نہیں صبر کر پانا ہر کوئی اس سب سے نکل نہیں پاتا 

اس لئے کسی کی بھی حالت کو اتنا لائٹ مت لیا کریں اپنے آس پاس اپنے قریبیوں سے دوستوں سے پوچھیں جج کریں کے وہ کسی تکلیف میں تو نہیں کسی ٹرومہ سے تو نہیں گزر رہے؟؟ 

اُنکی پوربلم حل کرنے کی کوشش کریں 

اُن کی تکلیفیں بانٹیں ہر انسان کہتا نہیں ہے پر آپ سمجھیں۔ زندگیاں قیمتی ہیں اسے یوں ہی کسی ڈپریشن میں آ کر مت گنوائیں 

مانا کے آپ کی پرابلم بہت بڑی ہے پر آپ کے ماں باپ کی تکلیف سے زیادہ بڑی ہے کیا ؟؟ 

کیا خود کی زندگی ختم کرنے کی سوچ بھی ذہن میں آنے پر ایک بار بھی آپ لوگوں کو اپنے ماں باپ کا خیال نہیں آتا دل میں کے وہ کیسے جئیں گے ان پر کیا گزرے گی ؟؟ 

انھیں زندگی بھر کا دکھ کیوں دیں ؟

آپ کے پاس کیا آخرت کی سب تیاری ہے ؟؟ 

کیا مرنے کے بعد کا حساب آسان ہے ؟؟

کوئی بات نہیں اگر لائف میں بُرا فیز زیادہ وقت تک تھا تو، کوئی بات نہیں اگر آپ نے لائف میں بہت زیادہ Struggle کیا اور آپ کو وہ کامیابی نہیں ملی جو آپ deserve کرتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔ 

کوشش کرتے رہیں ہار مت مانیں 

کوشش کا صلہ ایک نہ ایک دن ضرور ملتا ہے 

اور انسان گر کر ہی اٹھتا ہے 

جب تک آپ ہاریں گے نہیں جیتنے کی قیمت کیسے پتہ لگے گی آپ کو ؟

اور نہ امیدی مایوسی کفر ہے اسلئے مایوس نہ ہوا کریں 

بُرے تجربات سے ہی انسان سیکھتا ہے، اس لئے خود کو مضبوط بنائیں اُن لوگوں کے لئے جنہوں نے آپ کو یہ زندگی دی ہے جن سے آپ نے دو جہاں دیکھے ہیں 

جس ماں نے 9 ماہ تکلیف کاٹ کر آپ کو اس دنیا میں لایا 

خدارا زندگیوں کو اتنا بے مول مت سمجھیں یہ خاص ہے 

 انسان بہت جلد مایوس ہوجاتا ہر طرف سے ناامید ہوجاتاہے اور اسکو لگتاہے اب کچھ اس کے ساتھ اچھا نہیں ہوگا تب اچانک سے اس کے سامنے ایک قرآن کی آیت آتی ہے جس کو دیکھ کے فورا دل سے آواز آتی ہے ❤

ہاں ہاں ان شاء اللہ 😍اگر میرے اللہ نے چاہا تو جلدی ہی ایسا ہوگا میرا اللہ تو ہمیں سب سے زیادہ جانتے بے شک انہیں ہی تو پتا کس کو کب کیا چیز عطا کرنی ہے...پھر دل میں سکون اترتا ہے جب ہم دل سے کہہ دیتے ہے بے شک اللہ آپ ہمیں ایسے روتا ہوا بے چین اور مایوس نہیں دیکھ سکتے آپ تو اپنے بندے سے بہت پیار کرتے اللہ مجھے یقین ہے آپ مجھے بہتر نہیں بلکہ بہترین عطا کرے گے ان شاء اللہ♡

اللّه کا تحفہ ہے اسکی قدر کریں 

خوش رہیں مسکراتے رہیں۔

 


تعارف :  کومل سلطان خان

مجھ کو پانا ہے تو مجھ میں اتر کر دیکھ 

یوں کنارے سے سمندر نہیں دیکھا جاتا

میرا نام کومل سلطان خان ہے۔ میرا تعلق منڈی بہاؤالدین سے ہے۔

23دسمبر کی ٹھٹھرتی اور منجمند کر دینے والی رات کو ہمیں دنیا میں آنے کا شرف حاصل ہوا۔ قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا۔

اسی حساب سے ہمارا اسٹار جدی ہے یعنی جدی پشتی ہے۔اسٹار پر یقین تو نہیں ہے لیکن ایسے پڑھنا کافی لطف دے جاتا ہے۔

اور جہاں تک بات ہے لکھنے کی

 تو لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے کیا کچھ اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

عمومی تحریریں پہلے بھی لکھی تھیں مگر کہانی کی شکل میں پہلی بار لکھنے کی کوشش کی تھی اور وہ بھی کچھ خاص لوگوں کے اصرار پر جن کی میں تہہ دل سے مشکور و ممنوں ہوں اور اپنی اس جیت کو انھیں کی نام معنون کرتی ہوں ⁦کہ وہی اس کے اصلی حق دار ہیں.


اپنے آرٹیکل ہمیں نیچے دیے ہویے ای میل پر پوسٹ کریں ہم آپکی کاوش کو پبلش کریں گے

Send us your Stories, Novels, Writings at below E-mail Address, We will publish.

[email protected] | [email protected]


Like: