درد دل افسانہ

Education posted on 12/2/2020 5:52:48 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 842

درد دل افسانہ
سرد لہجوں کی برف دل پہ اس قدر جم جاتی ہے کہ یقین مانو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دل بھی سفید پوش نما سا ہوگیا ہے اکثر اوقات فقط ٹھنڈی آہ بھرنے کے علاوہ ہم کچھ نہیں کر سکتے دل پر جمنے والی برف بعض اوقات اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ خون کی گردش میں ٹھنڈی روانی سی آ جاتی ہے

درد دل افسانہ 

فاریہ علی

--------------------

سرد لہجوں کی برف دل پہ اس قدر جم جاتی ہے کہ یقین مانو یوں معلوم ہوتا ہے کہ دل بھی سفید پوش نما سا ہوگیا ہے اکثر اوقات فقط ٹھنڈی آہ بھرنے کے علاوہ ہم کچھ نہیں کر سکتے دل پر جمنے والی برف بعض اوقات اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ خون کی گردش میں ٹھنڈی روانی سی آ جاتی ہے لوگ حقیقت کے آئینے ہم پر اس طرح سے کھول دیتے ہیں کہ دل کا آئینہ جس کا شیشہ ہماری امید سے بھی زیادہ کمزور ہوتا ہے ٹوٹ سا جاتا ہے  جس کے ٹوٹنے کی خبر کانوں کان عکس کو بھی نہیں ہوتی پیوند لگا دل اس قدر بے قرار سا ہو جاتا ہے گویا کہ دھڑکنوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہوں دھڑکنوں کو دھڑکنے میں دشواری ہو جاتی ہے اور دشواری محض لوگوں کے رویے اور لہجوں کی کڑواہٹ کی تپش محسوس کرتے کرتے پیش آتی ہے دل اگر پیوند لگا ہو تو جانتے ہو نا عین جوانی میں ہی انسان برسوں پرانا سا ہو جاتا ہے پھر فرق نہیں پڑتا پھر کہ روح  عمر کی دہلیز کو چھو رہی ہے میرے انگ انگ سے بہنے والے اداس الفاظوں کی اداسی فقط تم سے منسلک ہے میرے درد نے انوکھی زبان اختیار کر لی ہے درد بھرے الفاظ اگر صفحات پر بکھر جاۓ تو سب باذاتی داستان محسوس کرتے ہیں میرے روگ کو آنکھوں کے نیچے بڑے حلقوں کو مسکراہٹ کے پیچھے پوشیدہ درد کو الفاظ میں چنے گئے دکھ کو میری غزل جیسی لام زلف میں چاندی اتر جانے کی اذیت کو حقیقتا کوئی محسوس نہیں کر سکتا میرا سوگ مجھے اندر ہی اندر نگلتا جا رہا ہے دل و دماغ ان سب چیزوں کو سمجھنے سے عیار ہے جو مجھے اندر ہی اندر پیوست کیا جا رہا ہے نہ اس کا معالجہ موجود ہے نہ ہی مرہم مجھے تو آج تک سکون کا کندھا میسر نہ ہو سکا جہاں سر رکھ کر بے قراری کے عالم میں سارے دکھ درد اذیت کے اسباب کہہ ڈالو میں تو اکثر اذیت کے اس دہانے پر کھڑی ہوتی ہوں گویا کہ خود پر دل کھول کے ہنس دیتی ہو  سنجیدگی ذات میں اس قدر اتر چکی ہے کہ بچپن برسوں پرانا محسوس ہوتا ہے اکثر اوقات میرے چیختےالفاظ  مجبورا خاموشی اختیار کر جاتے ہیں بے حس لوگ زمانے کے میرے ماتم شدہ الفاظ پر داد دیتے ہیں آنکھیں آنسوؤں سے پناہ مانگتی ہیں میں سفر میں تنہا رواں ہو  وقت کی سماعت میں خود کو ڈھال لیا ہے مگر آج بھی بعض لوگوں کی کمی کی شدت سے دل خولہ سا بن جاتا ہے اب مجھ پہ ذمہ داریاں اس قدر بڑھا دی گئی ہیں بعض اوقات خود سے ملنے کا موقع میسر نہیں آتا اب سنجیدگی کا یہ کمال ہے کہ میں نے میں میں کرنا چھوڑ دیا ہے کیونکہ میری ذات اس چیز سے آشنا ہے باخوبی  میں فقط مٹی کی ڈھیری ہو اور کچھ نہیں کہ  بہت سے لوگوں نے مجھے وقت سے پہلے مار دیا ہے روح میں اتری ہوئی اداسی اب ماپی نہیں جاتی آخر اتنی مشکلوں اداسیوں اور اذیتوں کے علاوہ میں پر امید ہوں اور سمندر کی طرح اپنی ہی دھن میں روانہ ہو منزل مقصود کو حاصل کروں گی اور ہر وہ چیز حاصل کرونگی جو میری زندگی میں لاحاصل رہی حاصل اور لاحاصل کی جنگ میری زندگی میں  مبتلا ہے مگر اللہ کی ذات میرے دل کے پوشیدہ خانے کو بھی مجھ سے بہتر جانتا ہےمیری زندگی میری امید فقط وحدہ ہو لا شریک لہ  کی ذات سے وابستہ ہے اور ایک دن ہر وہ چیز الحمداللہ ہو جائے گی تو ابھی تک انشاءاللہ رہی ہے.

 

غزل

---------------------

مختصر ہے یہ نومبر 

تیری یاد کافی کا مگ اور یہ نومبر 

ہائے نصرت کالی لمبی سی سڑک تنہا سا میں اور یہ نومبر 

مدھم دھوپ کی تپش کالے سوٹ میں تو اور یہ نومبر 

آراست دل شوق نگاہیں مستقل سفر اور یہ نومبر 

کاوش پس زندگی میرا اثاثہ اور یہ نومبر 

ذہن میں سوچوں کا جال سلجھا سا چہرا اور یہ نومبر  

ہلکی ٹھنڈ کھلا صحن تیرا کاندھا ہاۓ اور مختصر یہ نومبر 

فاریہ کتنا مختصر ہے نا یہ نومبر

 

 

تعارف : فاریہ علی

 

سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

 

 


Like: