رخصت آخر

Education posted on 12/22/2020 7:10:56 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 641

رخصت آخر
بوکھلاہٹ اس قدر تھی کہ سمجھنے کی حس ختم ہوتی محسوس ہو رہی تھی عقل کے اوصاف یقین مانو کام کرنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے تھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اور نہ ہی یقین یکدم جسم میں اس شدت سے درد ہوا تھا کہ پچاس ہزار واٹ کا جھٹکا

رخصت آخر 

ازقلم : فاریہ علی 

جن کے منہ سے دو بول محبت کے سننے کو عمر بھر 

ترستے رہے آج وہی محبت نچھاور کر رہے تھے

بوکھلاہٹ اس قدر تھی کہ سمجھنے کی حس ختم ہوتی محسوس ہو رہی تھی عقل کے اوصاف یقین مانو کام کرنے کی صلاحیت کھوتے جا رہے تھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا اور نہ ہی یقین یکدم جسم میں اس شدت سے درد ہوا تھا کہ پچاس ہزار واٹ کا جھٹکا جسم میں لگا دیا گیا اور اب نہ جانے کیوں میں اور جسم  الگ ہوئے بیٹھے تھے گوشہ تن سے جان جدا ہوئی تھی بوکھلاہٹ میری جائز تھی نہ جانے کیوں سب اشک  رواں تھے جن کے منہ سے دو بول محبت کے سننے کو عمر بھر  ترستے رہے آج وہی محبت نچھاور کر رہے تھے سب کے اشک روا ہونے کا مطلب میں کچھ سمجھ نہ سکی دھاڑیں مار مار کر رونے والا میرا چھوٹا بھائی چارپائی سے لپٹ کر رو رہا تھا اس میں کوئی شک و شبہ نہ تھا   کہ وہ مجھے دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہے بے جان پڑے جسم کے ماتھے پر بوسہ نصب کیا گیا میری روح یکطرفہ کھڑی سب بڑی حیرانی اور پریشانی سے دیکھ رہی تھی کہ یہ تو وہی رشتہ دار ہیں جو سیدھے منہ گفتگو کرنے کے روادار نہ تھے اور آج پیار محبت نچھاور کر رہے ہیں مگر اب اس محبت کا میں کچھ نہیں کرسکتی تھی افسوس جیتے جی انہوں نے مجھے ان سب چیزوں سے محروم رکھا تھا گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ روح کی بوکھلاہٹ بڑھتی جا رہی تھی بے جان جسم کو دیکھنے کے لیے سب رشتےدار دور دور سے سفر کر رہے تھے سب کی کوشش تھی کہ دیدار آخری بار کر لیں مگر عین ممکن تھا کہ کچھ لوگ میرا آخری دیدار بھی نہ کر سکیں لازم نہیں میرا بے جان جسم دیکھنا ہر ایک کو میسر آجائے میری چھوٹی بہن اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں سے میرے رخ شہوار کو شائستگی سے چھو رہی تھی اور مجھے اٹھانے کی ناکام کوشش نہ جانے کتنی بار کرچکی تھی اور پھر روتی روتی ماں کے پاس چلی جاتی جو نہ جانے کب سے اپنے حواس کھوئ بیٹھی تھی اور بہت سی عورتیں میری ماں کو مستقل حوصلہ دیے جا رہی تھی میری جان سے عزیز بابا آ کر مجھے کئی بار آواز دے کر اٹھنے کا کہہ چکے تھے مگر آج فیصلہ حقیقی کسی کی نہیں سننے والا تھا میری روح سب کو دیکھ رہی تھی اور محسوس بھی سب ہو رہا تھا ایک بوڑھا سا چہرہ کرسی پر بے سود سا ہوا بیٹھا تھا ضعیف آنکھوں سے نہ جانے کب سے آنسو رواں تھے مجھے غسل دینے کی تیاریاں کی جانے لگی بہت سے اجنبی چہرے میرے اردگرد موجود تھے اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے جو میرے کانوں میں آہستگی سے عربی بولتے جارہے تھے میری روح کو شدت کا جھٹکا اس لمحے لگا جب مسجدوں میں میرے نام کے ساتھ محروم لگا کر نماز جنازہ کا اعلان کیا جا رہا تھا  میری روح پوری خوف کی شدت کی قوت سے کانپ اٹھی غسل سے فارغ ہو کر مجھے پے در پے کفن میں لپیٹا جا رہا تھا اور جو غلطیاں مجھ سے میری حیات  زندگی میں ہوئی تھی لوگوں کے ساتھ خدا جانے وہ مجھ پر اس قدر مہربان تھے کہ مجھے معاف کرتے جا رہے تھے میرا گوشہ رواں رواں کانپتا جا رہا تھا میرے جنازے کو جلدی سے اٹھایا جا رہا تھا کہ گویا سب کو واپس پلٹنے کی جلدی ہو  اور مجھے میرے آشیانے کی طرف لے جایا جا رہا تھا مستقل روتے بڑے بھائی اور چھوٹا بھائی بابا کو سہارا دیتے ہوئے میرے جنازے کو سہارا دینے آ رہے تھے مجھے تاقیامت والے گھر لے جارہے تھے میری روح جنازہ کا پیچھا کرتے کرتے آواز دے رہی تھی خدارا رحم کرو رک جاؤ مجھے اس طرح سے لے کر مت جاؤ مگر لوگوں کے بڑھتے قدم دیکھ کر مجھے اس بات کا احساس ہو گیا تھا کہ لوگ کندھوں پر اٹھا کر مٹی تلے دفنا دیتے ہیں قدر پانے کے لیے مرنا پڑتا ہے بے جان جسم کی اس قدر قدر کی جاتی ہے کے کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں محبت کے تمام باغ ہم پر کھول دیتے ہیں مگر اس وقت ہمارے لئے یہ چیزیں کسی کام کی نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ ہم پڑھ کر بخشا جائے.

 

مزید  پڑھیے:فتنہ قادیانی

 

 


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.


اپنے آرٹیکل ہمیں نیچے دیے ہویے ای میل پر پوسٹ کریں ہم آپکی کاوش کو پبلش کریں گے

Send us your Stories, Novels, Writings at below E-mail Address, We will publish.

[email protected] | [email protected]


Like: