وقت اور زندگی کی دوڑ

Education posted on 12/23/2020 5:54:27 PM by christina , Likes: , Comments: 0, Views: 796

وقت اور زندگی کی دوڑ
آج خود کی زندگی پر نظر ثانی کی تو بے حد حیرت ہوئی کتنے رشتے ناطے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدل سے گئے تھے بہت سے رشتے زندگی کی دوڑ میں بعید ہوں گے اور کچھ رشتے زندگی میں مٹھی سے ریت

وقت اور زندگی کی دوڑ

ازقلم فاریہ علی

 کچھ رشتے زندگی میں مٹھی سے

ریت کی مانند پھسلتے چلے گئے 

آج خود کی زندگی پر نظر ثانی کی تو بے حد حیرت ہوئی کتنے رشتے ناطے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدل سے گئے تھے بہت سے رشتے زندگی کی دوڑ میں بعید ہوں گے اور کچھ رشتے زندگی میں مٹھی سے ریت کی مانند پھسلتے چلے گئے   افسوس تو بہت ہوا مگر کیا کیا جا سکتا تھا اور ایک زندگی ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہی ایسے بھاگی جارہی ہے جیسے گویا گھڑی میں سویاں زندگی کی دوڑ شروع ہوئے اٹھارہ سال بیت گئے معلوم ہی نہ ہو سکا بچپن تو خواب سا لگتا ہے کے کبھی ان چلتی سانسوں کے ساتھ حسین لمحات بچپن میں بسر کیے ہیں وقت لڑکپن کی دہلیز پر ہے اور زندگی کی آنکھ مچولی نہیں ختم ہو رہی اگر کبھی ان رقیبوں کو یاد کرو جو اسکول کے وقت ہر شرارت میں ایسے ساتھ ہوتے کہ گویا نیکی کی دعوت عام ہو اور دکھ ہوا اس وقت جب وقت با وقت چہرے نے اپنے نقوش بدل لیے عادتیں پاگل پن نادانیاں شرارتیں رفتہ رفتہ پیچھے رہ گئی اور ان رقیبوں سے زندگی کہ موڑ پر ملاقات ہوئی تو اپنا تعارف گویا اس طرح دیا کہ کسی نے آنے والے کو دیا جاتا ہے مگر اب کیا کر سکتے تھے وہ دل جو کبھی جیب میں پانچ روپے  کا سکہ رکھ کر خود کو بڑا امیر محسوس کرتا تھا آج بڑی بڑی خواہشات اور امید وابستہ ہونے کے باوجود اس دوڑ میں اکیلا کھڑا ہے اور اس انجانی دوڑ کا حصہ ہے میری زندگی ان رشتوں کے گرد گردش کر رہی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ چہرے سے نقاب ہٹا رہے ہیں روز نیا رنگ دکھاتے ہیں ایسے تبدیل کرتے ہیں تیور اپنے گویا کہ لباس تبدیل کررہے ہو معلوم ہے بہت سے رشتے ایسے بھی زندگی میں شمار ہیں  بالکل تشنہ لب کی مانند ہیں اگر وقت پیار عزت نہ دی جائے تو بالکل اس تشنہ لب کی مانند گہری لکیروں میں مبتلا ہو جائیں گے میں مانتی ہوں مجھے ابھی ان رشتوں کو سمجھنے کے لئے وقت درکار ہے مگر کیا کروں جو عقل کے اوصاف وقت سے پہلے سب بتا رہے ہیں یہ عمر نہ تھی لوگوں کی حقیقتیں جاننے کی مگر کیا کروں جو مجھے آنکھوں کے راز پڑھنے آتے ہیں یہ تو پوشیدہ کہانیاں ہیں دلوں کی کیا ہوا جو لوگ اوپر سے میٹھی اندر سے سانپ ہوتے ہیں یہ غلط بات ہے جو معاشرہ کہتا ہے کہ عمر کے ساتھ تجربات آتے ہیں مگر میرا ماننا یہ ہے کہ تجربات عمر دیکھ کر نہیں آتے شاید اسی کا نام زندگی ہے جو وقت اور اس کی رفتار سے بھی زیادہ تیز دوڑی  جا رہی ہے-

 

مزید  پڑھیے:رخصت آخر

 

 


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.


اپنے آرٹیکل ہمیں نیچے دیے ہویے ای میل پر پوسٹ کریں ہم آپکی کاوش کو پبلش کریں گے

Send us your Stories, Novels, Writings at below E-mail Address, We will publish.

[email protected] | [email protected]


Like: