میں تمہیں آزاد کرتی ہوں

Education posted on 12/7/2020 8:06:36 PM by Abrahim , Likes: , Comments: 0, Views: 751

میں تمہیں آزاد کرتی ہوں
ہم درد کے ستائے ہوئے لوگ اگر کوئی چھوڑ کر چلا بھی جائے تو شکایت نہیں کرتے تمہاری دی ہوئی اداسی میری رگوں میں گھلتی جا رہی ہے آنکھوں کے نیچے پڑے حلقوں کی کہانی کوئی نہیں جانتا یہ ان شکستہ جنگوں کے سبب ہیں جو تم سے لڑے بغیر میں ہار چکی ہوں بالوں میں اتری ہوئی چاندنی اس چیز کا پختہ ثبوت ہے کہ میں کچھ ہی عرصے میں ہزاروں برس جی چکی ہوں میرا وجود لمحہ با لمحہ ریزہ ریزہ ہوتا جا رہا ہے

 میں تمہیں آزاد کرتی ہوں

افسانہ

ازقلم فاریہ علی

ہم درد کے ستائے ہوئے لوگ اگر کوئی چھوڑ کر چلا بھی جائے تو شکایت نہیں کرتے تمہاری دی ہوئی اداسی میری رگوں میں گھلتی جا رہی ہے آنکھوں کے نیچے پڑے حلقوں کی کہانی کوئی نہیں جانتا یہ ان شکستہ جنگوں کے سبب ہیں جو تم سے لڑے بغیر میں ہار چکی ہوں بالوں میں اتری ہوئی چاندنی اس چیز کا پختہ ثبوت ہے کہ میں کچھ ہی عرصے میں ہزاروں برس جی چکی ہوں میرا وجود لمحہ با لمحہ ریزہ ریزہ ہوتا جا رہا ہے تمہارے وجود سے مجھے ملنے والی اذیتیں بے تحاشا ہیں میں جان چکی ہو اس پل کی اذیت کو جب کوئی جان سے عزیز چھوڑ جائے اور پلٹ کر نہ دیکھے کبھی کبھی وجود میں اس قدر درد ہوتا ہے کے پانی کا قطرہ جسم پر پڑتے ہی تکلیف آغاز ہوتا ہے اور  اختتام دل پر ہوتا ہے تم وہ شخص ہو میری زندگی کے کہ تمہیں کھونے کے بعد تمام اشیاء ملائی جائے تب بھی اس کا خسارہ مکمل نہ ہوسکے  چاہتے ہوئے بھی تم میرے تخت لاشعور میں نا جا سکےعمرِ رفتہ نے بہت سے سبق آگاہی دی  بہت سے اسباق کچی عمر میں ہی سیکھ لیے کوئی رنگ مجھ پر جچتا ہی نہیں  بھلا چہرے کی رونق چھین جانے کے بعد بھی کوئی پرنور رہ سکا ہے میرے بخت کے ستارے ایک عرصہ میری مخالفت میں رہے وقت نے یہ بھی بتا دیا کہ  درخت پر دھاگہ باندھنے سے کوئی مل نہیں جاتا مگر عین ممکن ہے کہ درخت سوکھ جاتا ہے بخت کی سیاہی سے صبر کرنا آسان نہیں ہوتا اللہ نے صبر پر اجر رکھا ہے مگر عین ممکن ہے کہ میں تمہارے صبر سے اللہ کی قربت میں چلی جاؤ  خیر پر سکون رہو اللہ سے دعا کرتی ہوں تم جہاں رہو خوش رہو کیونکہ لازم نہیں محبت مل جائے میں نے محبت کی تھی نہ کہ تجارت کہ مجھے بھی ویسے ہی واپس ملتی تمہیں خوش دیکھنا بھی میری محبت ہے جہاں تک بات ہے نادان آنکھوں کی تو وقت کے ساتھ ساتھ میں ان کو بھی سمجھا لوں گی میں تمہیں معاف کرتی ہوں ہر اس اذیت تکلیف دکھ درد جس کا سبب تم بنے میں تمہیں ہر طرح کے آدھے ادھورے وعدے سے آزاد کرتی ہو  کیوں کہ میرا ذہن نفرت کا تصور نہیں رکھتا آپ جس کو چاہتے ہو لازم نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ  تاحیات رہے  محبت میں انسان اپنی زندگی کے حسین لمحات ضرور سجاتا ہے مگر لازم نہیں ہر چیز مکمل ہوجائے میں تم سے محبت کرتی ہوں تم سے نفرت کا کبھی تصور نہیں رکھا نہ تجارت کا کہ مجھے بھی اتنی ہی واپس ملتی جتنی میں نے کی تھی میں تمہیں آزاد کرتی ہوں ہر طرح کے شکستہ جال سے میں تمہیں ذات کرتی ہوں  جاؤ میں تمہیں آزاد کرتی ہوں آزاد کرتی ہوں

مزید فاریہ علی  کے افسانے:  پوشیدہ

 تعارف : فاریہ علی

 

سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

 


Like: