وقت کا کھیل ازقلم فاریہ علی

Education posted on 12/8/2020 6:10:44 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 764

وقت کا کھیل ازقلم فاریہ علی
آج اتنی شدت سے گھٹن محسوس ہوئی یقین مانو ایسا لگا جیسے کوئی مٹی تلے دفنا گیا ہو گھٹن کی شدت اس قدر تھی کہ آنکھ کھل گئی تو خود کو اندھیرے والے کمرے میں پایا کمرہ تو بہت لمبا معلوم ہو رہا تھا مگر اندھیرے کی شدت سے دل گھبرا گیا سارے لوگوں کو آواز لگائی سارے رشتے نتے جو جان سے زیادہ عزیز تھے سب کو بلایا مگر شاید وقت بازی لے جا چکا تھا کوئی نہ آیا پھر میں نے اپنے آپ کو محسوس کیا تو مجھے کسی سفید سی لمبی سی چادر میں لپیٹ دیا گیا تھا پہلے پہل تو میں گھبرا گئی کہ یہ کیا ماجرہ ہے

وقت کا کھیل

 ازقلم فاریہ علی 

آج اتنی شدت سے گھٹن محسوس ہوئی یقین مانو ایسا لگا جیسے کوئی مٹی تلے دفنا گیا ہو گھٹن  کی شدت اس قدر تھی کہ آنکھ کھل گئی تو خود کو اندھیرے والے کمرے میں پایا  کمرہ تو بہت لمبا معلوم ہو رہا تھا مگر اندھیرے کی شدت سے دل گھبرا گیا سارے لوگوں کو آواز لگائی سارے رشتے نتے جو  جان سے زیادہ عزیز تھے سب کو بلایا  مگر شاید وقت بازی لے جا چکا تھا کوئی نہ آیا پھر میں نے اپنے آپ کو محسوس کیا تو مجھے کسی سفید سی لمبی سی چادر میں لپیٹ دیا گیا تھا پہلے پہل تو میں گھبرا گئی کہ یہ کیا ماجرہ ہے جو میرے ساتھ رونما ہو رہا ہے ذرا سے خود کے ہوش و حواس بحال کیے رفتہ رفتہ  ہر چیز کا معلوم ہوتا جا رہا تھامیرے انگوٹھے کس چیز سے بندھے ہوئے تھے شاید کوئی سفید سی ڈور تھی ہاتھوں کو ہلانے کی کوشش کی تو ناکام رہی ہاتھ میرے سیدھے تھے گویا کہ میں نماز کی نیت میں ہوں سر پر بھاری پن محسوس ہوا تو یوں معلوم ہوا کہ جیسے سفید کپڑا زیادہ پڑ گیا ہوں  اور کسی چیز کا منہ بند کرنے کے لئے ڈور باندھی گئی ہو میری بوکھلاہٹ  میرے چہرے پر صاف ظاہر تھی میری زندگی جن رشتوں کے گرد گردش کرتی رہی اب ان میں سے کوئی بھی میرے پاس موجود نہ تھا میرا ذہن حقیقت تسلیم کرنے کا روادار نہ تھا میرے لیے یہ مرحلہ کسی اذیت سے کم نہ تھا شاید اب یہی میرا حقیقی گھر تھا جہاں مجھے تا قیامت رہنا تھا  میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا میں اس امید سے خود کو وابستہ کر بیٹھی کہ کوئی عزیزوں تر اکر حوصلہ دے کر لے جائے گا مگر فیصلہ ازل کو کون ٹال سکتا تھا  اب تو حالات بدل چکے تھے اتنے میں میری نظر سامنے سے آتے دو سفید پوش پر پڑی تو میں گھبرا گئی میرے ذہن نے اب پختہ یقین کر لیا تھا کہ اب تو کوئی سانحہ رونما ہو چکا ہے دونوں نے آتے ہی عربی بولنا شروع کر دی قدرت کا قانون مجھے سمجھ بھی آرہی  تھی جب خود کی زبان کھولی تو  عربی کے الفاظ ادا ہوئے  ایک طویل سوال و جواب کے بعد وہ دونوں چلے گئے میں پھر تنہا رہ گئی اتنے میں ایک آواز بلند ہوئی نہ جانے یہ آواز کہاں سے بلند ہوئی تھی دل یک دم خوف کی شدت سے لرز گیا شاید ابھی فیصلہ حقیقی ہونا باقی تھا اتنے میں خوف کی شدت سے میری آنکھ کھل گئی خود کو پسینے میں شرابور پایا اذان فجر ہو رہی تھی جلدی سے اٹھ کر میں نے نماز کی نیت کی تو دل کو بڑا حوصلہ ہوا کہا بھی میرے رب مجھ پر توبہ کے دروازے کھلے ہوئے ہیں دل کی تسکین کے لیے ابھی یہی بات کافی تھی کہ میں زندہ ہوں اور رب کے حضور کھڑی اپنے گناہوں کی معافی کی طلبگار اور اس کی رضا کی منتظر ہوں

غزل

میرے درد کو تو آواز دیں 

تو مجھے مشکلوں میں پھر سے ڈال دے 

میری آہ و پکار پہ یوں کان نہ دھر 

میرے درد کو تو لفظ بہ لفظ مٹا دے 

میرے مرنے کی دعا نہ کر 

کر کوئی کرشما مجھ میں نئی روح تو ڈال دے 

میری زلفوں کی چاندنی بتا دیتی ہے میرے غم کو 

زغم ہستی مجھے تو میری سزا و جرم بتا دے 

ہے اگر راستہ رہائی کا کوئی 

تو مجھے ان مشکلوں  میں سے نکال دے 

اے کرشمہ گر کر کوئی کرشمہ 

فاریہ مجھ کو تو آواز دے 

میرے درد کو تو مٹا دے 

میرے درد کو تو مٹا دے

مزید فاریہ علی  کے افسانے:میں تمہیں آزاد کرتی ہوں

تعارف : فاریہ علی

 

سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.


Like: