خواجہ سرا - ازقلم فاریہ علی

Education posted on 12/9/2020 1:57:34 PM by Abrahim , Likes: , Comments: 0, Views: 715

خواجہ سرا - ازقلم فاریہ علی
میرے پیدا ہونے سے پہلے مجھ سے اتنی امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں کہ گویا میں دنیا میں امیدوں پر پورا اترنے آئی ہو مجھ سے خدارا اتنی امیدیں وابستہ نہ کرو کہ میرا جینا دشوار ہو جائے کہیں یہ نہ ہو کہ معاشرہ مجھے اپنی زیب تن میں پناہ ہی نہ دے پھر مجھ سے اجتناب ایسے کیا جاتا ہے کہ گویا میں کسی اور دنیا سے آئی ہو جب میرے خالق نے مجھے بنایا ہے اشرف المخلوقات کو حق تنقید نہیں اگر میں خواجہ سرا ہو تو یہ دنیا کون ہوتی ہے

خواجہ سرا  

ازقلم فاریہ علی 

میرے پیدا ہونے سے پہلے مجھ سے اتنی امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں کہ گویا میں دنیا میں امیدوں پر پورا اترنے آئی ہو مجھ سے خدارا اتنی امیدیں وابستہ نہ کرو کہ میرا جینا دشوار ہو جائے کہیں یہ نہ ہو کہ معاشرہ مجھے اپنی زیب تن میں پناہ ہی نہ دے پھر مجھ سے اجتناب ایسے کیا جاتا ہے کہ گویا میں کسی اور دنیا سے آئی ہو  جب میرے خالق نے مجھے بنایا ہے اشرف المخلوقات کو حق تنقید نہیں اگر میں خواجہ سرا ہو تو یہ دنیا کون ہوتی ہے مجھ پہ ہنسنے والی کیا تم لوگوں نے سنا نہیں میرے رب نے کسی بھی چیز کو بے مقصد پیدا نہیں کیا کیا مجھے دکھ کا احساس نہیں ہوتا جب راہ چلتا ہر شخص مجھے نشان تنقید بناتا ہے گویا کہ میں ان کی جاگیر ہو اگر حق ہوتا خود کو تخلیق کرنے کا تو دنیا کی سب سے حسین انسان میں ہوتی مجھے حیرت ہوتی ہے یہ غوروفکر کرکے کہ میری اذیت کی وجہ یہ معاشرہ ہے کیا  مجھے حق نہیں جینے کا اس معاشرے کو کچھ کر دکھانے کا کیوں نہیں سمجھتا یہ معاشرہ کے میں نے اپنے آپ کو خود تخلیق نہیں کیا ہے میں معاشرے والوں سے کیا گلا کرو جب مجھے میرے ہی گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے گھر والے میری دسترس سے نکل جاتے ہیں آنکھیں کھلی نہیں ہوتی کہ گھر سے رخصت ہو کر کسی اور گھر میں جا بستے ہیں عمر حیات لوگوں کے خود پے تانے اور قہقے محسوس کرتے کرتے گزر جاتی ہے دل گویا کہ ہر روز کانٹوں پر لوٹیاں کھاتا ہے ہر روز نیا زخم ملتا ہے  ملال ہوتا ہے کہ اس وقت نے اور لوگوں نے چہرے کی ہنسی اور جینے کا حق چھین لیا ہے کیا لوگ جواب دے نہیں میری تکلیف کا میری اذیت کا کیا خدا اس دنیا سے سوال نہیں کرے گا کیا معاشرے والوں نے سنا نہیں کہ میرے رب کے آگے سب برابر ہے مجھے انصاف اس دنیا میں نہ سہی اس جہان میں لازم ملے گا میرے ہر دکھ و روگ کا حساب ہوگا میں نے  سکون بھری آہ اس لمحے بھری جب مجھے احساس ہوا خدا سب دیکھ رہا ہے اور وہ بھولنے والوں میں سے نہیں ہے میرے خیال سے ان معاشرے والوں کے سامنے میری ذات ذرہ بے نشاں ہے  مگر مجھے فخر اس لمحے محسوس ہوتا ہے ان لوگوں کو آپس میں لڑتا جھگڑتا دیکھ کر ان کے دل میں نفرتیں ہے نہ جانے کیوں  اس خاص و عام کا بیڑا لوگوں نے ہی اٹھایا ہے میں نہیں جانتی میں خاص ہو یا عام مگر جو دعا کر لو تو خالی نہیں لوٹائی جاتی بد دعا دے دوں تجھٹ سے قبول ہو جاتی ہے جیسے کہ اس رب کا خاص کرم ہے مجھ پر یا یوں سمجھ لیجئے خاص نظر کرم ہو اس رب کی اس فقیر کے کشکول پر اس معاشرے والوں سے میری التجا ہے جب میرے رب نے مجھے پیدا کیا ہے تو براہ مہربانی مجھے جینے کا حق دیا جائے میری ذات کو کمتر نہ سمجھا جائے اگر میں خواجہ سرا ہو تو اس میں میرے رب کی کوئی مصلیحت شامل ہے لوگ مجھے حق کی تنقید نہ سمجھیں کیوں کہ یہ زندگی ان کی دی ہوئی نہیں میرے رب کی دی ہوئی ہے اور یہ رب کی امانت ہے اور زندگی موت کی امانت ہے.

مزید فاریہ علی  کے افسانے:وقت کا کھیل

تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

 


Like: