دسمبر کی آخری شام

Education posted on 1/1/2021 5:28:01 PM by Abrahim , Likes: , Comments: 0, Views: 778

دسمبر کی آخری شام
دسمبر وہ جو ایک لفظ ہے اداس سا اس کیلیے اذیت تھا، دسمبر کا وہ آخری دن جو دوسروں کیلیے بے تابی کا دن تھا ایک نئے دن کو طلوع ہوتے دیکھنے کی بے تابی اس کیلیے کسی بھی احساس اور امید سے عاری تھا۔

دسمبر کی آخری شام!

از قلم ✍  آنسہ اعوان

دسمبر وہ جو ایک لفظ ہے اداس سا اس کیلیے اذیت تھا، دسمبر کا وہ آخری دن جو دوسروں کیلیے بے تابی کا دن تھا ایک نئے دن کو طلوع ہوتے دیکھنے کی بے تابی اس کیلیے کسی بھی احساس اور امید سے عاری تھا۔ 

زندگی ایسی بے حس چیز ہے کہ جس کیلیے جہاں بھی رک جائے ایسی ڈھیٹ بن جاتی ہے کہ ہزار جرتوں کے بعد بھی آگے بڑھنے کا نام نہیں لیتی چاہے اس کے پاؤ ں پڑ جاؤ اپنا سب کچھ ہار دو پھر بھی ایک جگہ پر ٹکے رہنے کی ضد پر قائم و دائم رہتی ہے۔

 وہ آفس سے نکلی تو شام گہری ہو رہی تھی آفس کی سیڑھیوں سے اترتے اسنے دسمبر کے آخری سورج کی سرخی کو مٹتے دیکھا اور بغیر کسی خیال کو سوچے اسنے قدم آگے بڑھائے ۔۔ آج آخری شام ہے اس سال کی میں سوچ رہی ہوں نئے سال کو سلیبریٹ کرتے ہیں۔ اپنے کولیگ کے پاس سے گزرتے اسکے کانوں نے بھی یہ آواز واضح سنی۔۔ "آہ دسمبر تو تم جارہے ہو " اس بار اسکے لبوں کو پھیکی سی مسکراہٹ نے چھوا تھا۔

 گھر کچھ دور نہ تھا وہ آفس کے پارکنگ ایریا کو پار کرتی سڑک کی ایک جانب خاموشی سے چلنے لگی۔ اس کے آفس کی گاڑیاں اس کے پاس سے گزرتی جا رہی تھی۔ ان گاڑیوں کی رفتار میں آج کچھ اس انداز سے تیزی تھی جیسے منزل پر پہنچنے کی بے چینی ہو جیسے نئے سال کو بانہوں میں اٹھا لینے کی بے تابی، چلتے چلتے آج ناجانے کیسے وہ ہوٹل میں گھس آئی آگے بڑھتے ایک طرف کونے میں رکھے اداس گوشے میں وہ آ بیٹھی تھی لوگوں کی گہما گہمی پر وہ حیران نہیں ہوئی تھی ہوٹل میں اٹھتے باتوں کے شور اور ان میں اٹھتے قہقوں کو اسکے کانوں نے سنا تھا، نئے سال کی اتنی خوشی؟ اس نے بس سوچا تھا اور سر جھٹک دیا۔ وہ کون لوگ ہیں جن کی جھولی میں دسمبر اتنی خوشیاں چھوڑ جاتا ہے وہ کون لوگ ہیں جن کو خوشیاں راس آتی ہیں مجھے کیوں نہیں آئیں ؟ ہر دفعہ دسمبر کی آخری شام پر یہی سوال اسکے لبوں پر خاموش سسکیاں بن کر گونجتے تھے۔

سات سال ہوئے تھے اسکے ہزبینڈ کو ایک زندہ لاش بنے ہوئے، وہ سات سالوں سے قومہ میں گئے زندگی کی قید کاٹ رہے تھے، ایکسیڈنٹ کی وہ شام دسمبر کی آخری شام ہی تو تھی وہ کیسے بھول سکتی تھی اور اسکا خاندان جس حادثے کا شکار ہوا وہ شام بھی تو دسمبر کی آخری شام تھی، دسمبر! اسکے لبوں سے لفظ جدا ہوئے اسکے کانوں میں پڑے تھے، کیسا سرد اور پتھر جیسا لفظ ہے ایسا پتھر کہ کسی زندگی کی خوشیوں کو کچل ڈالے،  وہاں بیٹھے اسنے کیا سوچا کیا کھایا گھر پہنچتے اسکے ذہن سے سب محو ہو چکا تھا جب وہ گھر لوٹی تو رات کافی گہری ہو چکی تھی۔ 

 گھر داخل ہوتے ہی اپنی چیزوں کو ایک طرف رکھ کر وہ بے تابی سے ہمیشہ کی طرح اس کمرے کی جانب بڑھی تھی جہاں ایک وجود ہوش و حواس سے بےگانہ شائد اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے وہ آگے بڑھتے سامنے چت لیٹے انسان کے پاس جا کھڑی ہوئی تھی، اس شخص کو دیکھتے اپنا ہاتھ سامنے لیٹے شخص کے ماتھے پر رکھا تھا بے بسی سے دیکھتے اس کی نظر اس شخص سے ہوتے ہوئے ٹیبل پر گئی تھی۔

 میم! میں گھر جا رہی ہوں آج دسمبر کی آخری شام ہے نئے سال کی خوشی میں میرے ہزبینڈ مجھے باہر ڈنر کروانا چاہتے ہیں میں انشااللہ صبح تک آ جاؤں گی۔ شکریہ۔

نرس کا پیغام پڑھ کر اسنے سامنے دیوار پر لگے وال کلاک پر نظر دوڑائی تھی۔ نیا سال شروع ہونے میں کچھ وقت باقی تھا۔۔

چٹ کو پڑھ کر اسنے واپس ٹیبل پر رکھی تھی واپس نظروں کا زاویہ اس شخص پر مرکوز کرتی وہ اسکی جانب جھکی تھی

"دسمبر کی آخری شام کو الوداع ، جنوری کی پہلی صبح کو خوشآمدید کہیں

 آکاش"

"نیا سال مبارک ہو ، آپکی حنا "

یہ کہتے اس کے ماتھے کو چومتی وہ سیدھی ہوئی تھی اب کی دفع اسکی آنکھوں میں واضح نمی تھی ۔  جاتا ہوا دسمبر ہر کسی کیلیے ہنستا ہوا جنوری نہیں لے کر آتا ہے! 


Like: