نیم بورڈ

Education posted on 1/11/2021 7:24:47 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 747

نیم بورڈ
لیٹر ہاتھ میں تھامے کہیں گھنٹے میں یقینی و بے یقینی کی کیفیت سے دوچار رہا، اپنی خوش نصیبی پہ یقین تب آیا۔ جب میرا دل و دامن شکرانے سے تر ہوگیا۔

 تحریر 

 نیم بورڈ  

از قلم ✍ شیبامرزاحنیف

Name Board

APPOINTED AS A DIRECTOR

 لیٹر ہاتھ میں تھامے کہیں گھنٹے میں یقینی و  بے یقینی کی کیفیت سے دوچار رہا، اپنی خوش نصیبی پہ  یقین تب آیا۔ جب میرا دل و دامن شکرانے  سے تر ہوگیا۔بڑی سی” revolving chair  “میرا حکم بجا لاتا ،ماتحت عملہ ، کمرے میں موجود ”  Name board“ پہ سنہری حروف میں پرویا گیا      ”علی عباس حیدر “ میرا نام    میرا سینہ فخر و غرور سے  چوڑا کر گیا، میرے قدموں کی آہٹ پا کے  کمرے کے درو دیوار میرے احترام میں جھک   جاتے ،میری جازبیت سے حاٸف، میرے  ساتھی مرد  ، میری پر کشش شخصیت پہ گھاٸل حسین و جمیل  لڑکیاں ، بہت کچھ ایسا تھا زندگی میں جسے میں  سوچ کے  مسکرا دیتا:-

------            ------             -------                 ---=

”بزرگو“   (ادھر بیٹھیں وہ ڈسک رکھا ہے وزیٹر کے لیے) وہ بندہ درجہ چہارم کا تھا، جوانی کا نشہ ہو  نا  ہو حاضر سروس ملازم  کو کرسی کا نشہ ضرور ہوتا ہے ،  اس نے کراری آواز میں مجھے مخاطب کیا :-

”میں بھی ملازم ہوں“ ماضی کی یاد ایک دم مجھے توانا کر گٸی،  میرے ہونٹوں سے الفاظ نکلے اور  کمرے کی سماعتوں سے ٹکرا گٸے ۔

”بزرگو“ لین میں لگو۔ یہاں سارے ہی  ملازم  ہیں:-

مجھے یوں محسوس ہوا عملے کے ساتھ ساتھ کمرے کے درو دیوار بھی مجھ پہ ہنس رہے ہو۔ میں نے تلملا کے کوٸی جان پہچان والا بندہ ڈھونڈنا چاہا ، کہ اپنی پنشن کا کاغذ اس کو تھماٶں اور اس فضول جگہ سے چلتا بنوں ۔ میری نگاہیں کسی شناسا کو ڈھونڈنے لگیں ۔ چہرے تو سارے ہی  جانے پہچانے تھے میں انہیں اچھی طرح پہچانتا ہوں مگر یہ  مجھے بھو ل گٸے  ہیں شاید ” نا“  کسی کے دل میں میرے لیے  احترام ، نا ہی وہ قدرومنزلت جس کا میں حق دار ہوں ،

” سب جانتے ہیں مجھے“ میں نے بے چینی  سے پہلو بدلا! مجھے  کسی کی مدد نہیں چاہیے ۔ اللہ مالک ہے اپنی باری کا انتظار کرنے لگا، ناگواری سے میں نے کمرے کو دیکھا،  جو کبھی میری ملکیت تھا اور اب اس میں  کچھ بھی میرا اپنا نہیں تھا،  سواٸے کمرے میں لگے  ”Name Board “پہ کندہ میرے نام کے ۔ میری نگاہیں اس Name Board پہ ٹک گٸیں  

١۔نزیر حسین ملہی        ٢٠٠٠ تا ٢٠٠٠٢

٢۔عبدالغفور نقوی   ۔۔۔۔۔۔۔۔٢٠٠٢ تا ٢٠٠٥

٣۔حشمت اللہ کاظمی۔ ۔۔۔٢٠٠٥ تا ٢٠٠٩

٤۔علی عباس حیدر ۔۔     ٢٠٠٩ تا ٢٠١٥

٥۔ لقمان بشیر چیمہ ۔۔   ٢٠١٠ تا ٢٠١٦

٦۔سلطان وجیہ الدین   ۔۔۔٢٠١٦ تا ۔۔۔۔

”علی عباس حیدر“  اپنے نام پہ میری نظریں ٹھہر گٸیں،  میرے دل سے شدید قسم کی ٹیس اٹھی،  میں نے ہونٹوں کو دانتوں سے کچل کے اس درد کو دبانا چاہا،  مگر شاید ماضی کی یادگہری تھی،  درد زور آور تھا،  میں نے اپنے سینے کو اپنے ہاتھ میں پکڑنا چاہا،  مگر درد نہیں رک رہا تھا ،میری نظریں پھر سے   ” Name Board “  پہ جا ٹھہریں ۔ وہاں سب کچھ بدلا ہوا تھا۔ میرا نام نہیں تھا!  میں نے حیرت سے آنکھیں سکیڑیں،  آنکھوں سے سفید چشمہ اتارا،  ماتھے پہ آیا پسینہ صاف کیا،  اپنے نام کی تلاش میں بے چین و بے قرار ہو کے ” Name Board“ کی طرف بڑھا ، ” میرا نام کہاں چلا گیا؟“  میرا دماغ گھول گھول گھوم رہا تھا،  اب نہ تو مجھے درجہ چہارم کے  عملے کی آواز سناٸی دے رہی تھی ،اور نہ ہی سیٹ پہ براجمان آفیسر کی ۔میں نے” Name Board “کے قریب جاکے اپنے دونوں ہاتھ” Name Board“ پہ ٹکا دیے ۔ سب کچھ  صاف اور واضح دکھاٸی دے رہا تھا ۔سب نام مٹ چکے تھے، ناموں کی جگہ ناموں والے افراد کی  شکلیں ابھر  آٸیں  تھیں  اور وہ یک زبان ہو کے  کہہ رہے تھے 

 *ہاٸے کیا ستم ہے   کہ ہم مر جاٸیں گے 

چھوڑ لال و یمن خالی ہاتھ گھر جاٸیں گے *

-----     ------       ------          ختم

 


Like: