اداس و ستم گر جنوری

Education posted on 2/17/2021 8:19:58 PM by Abrahim , Likes: , Comments: 0, Views: 617

اداس و ستم گر جنوری
عالم طلسم شہر خموشاں میں چپ سادے یہ لوگ اداس جنوری کو مزید اداس و تنہا پسند ہی نہیں بلکہ مزید اذیت ناک بنا دیتے ہیں ابھی بے قرار سے دسمبر کا نشان نہیں اترا ہوتا کہ جنوری اپنے آب و تاب سے ہلچل مچا دیتا ہے

اداس و ستم گر جنوری ☁️

ازقلم فاریہ علی🍂

عالم طلسم شہر خموشاں میں چپ سادے یہ لوگ اداس جنوری کو مزید اداس و تنہا پسند ہی نہیں بلکہ مزید اذیت ناک بنا دیتے ہیں ابھی بے قرار سے دسمبر کا نشان نہیں اترا ہوتا کہ جنوری اپنے آب و تاب سے ہلچل مچا دیتا ہے افثو نما ہو جاتا ہے ایسے میں ہری بھری نہر کنارے رات کی چاندنی میں راہ چلتا لڑکا دکھ بھری آواز میں بآواز کچھ گاتے مجھے مزید اداس کر جاتا ہے چہروں کو تلاش کرتی ہیں نگاہیں ہر وقت منتظر رہتی ہے تمہاری قوس قزح کے حسین رنگ جنوری کی اداسیوں میں گھل کے مجھے مزید اداس کر جاتے ہیں خشک پتوں کی چرچراہٹ وجود میں بسنے والے درد کو بلاتی ہے  خشک پتوں کی چرچراہٹ بالکل دل کے اداس دریچوں کے درمیان گونجنے والی صدائیں بالکل اس کے مانند ہیں تمہارے چلے جانے سے بہت کچھ بدل گیا ہے ہر چیز اداسی کا پیغام دیتی ہے دیکھو جھیل کنارے بیٹھ کر جیل سیف الملوک کو یاد کرنا تمہارے وجود کو محسوس کرنا چاند کی چاندنی کے ہوتے ہوئے سرد رات میں میرے وجود کا تنہا ہونا یقین جانو کسی اذیت سے کم نہیں ہے یہ جنوری جاذب و جمیل تو ہے مگر کسی ستمگر سے کم نہیں جنوری کی اداس سرد تھرتھراتی ہوائیں وجود سے ٹکراتے ہوئے وجود کو شناسائی بناتی ہیں اس اداس جنوری میں جھیل کے کنارے چلتے یہ پیر شل اور بھاری  محسوس ہوتے ہیں جنوری کی اداس برف پتوں پر پڑی اس بات کا پیغام دیتی ہے کہ بہت سے لہجوں کی سردیاں تمہاری چھوڑی ہوئی اداسی کلب پر بالکل اسی طرح اداس برف جمی ہوئی ہے جنوری کو ستمگر کہو  کرشمہ گر کہو یا سحرانگیز یوں سمجھیں تمام روپ کمال ہے  آنکھوں کی اداسیاں  جنوری میں آب و تاب کے ساتھ اجاگر ہو جاتی ہیں بارش کی برستی بوندیں تنہا سی میں ماحول کو نشہ آور حدتک خمار سا بنا دیتی ہیں دیکھو ذرا جنوری کو بیان کرنا کس قدر مشکل ہے ہے نہ ؟ہر چیز کی اداسیاں لکھنے سے دل کا قصر ہے اذیت ملتی ہے ایک ادھوری سی کہ تمہارے وجود سے وابستہ ہیں یہ تمام چیزیں اور جانتے ہو سب سے اذیت ناک  چیز کیا ہے جب تکلیف درد احساسات شدت اختیار کر جائیں اور سننے والا کوئی نہ ہو او مختصر بیان کرو جنوری کو تو یہ جاذب وجمیل ہونے کے ساتھ ساتھ فقت اداس ہے تنہا  ہے بالکل میری طرح

 

 


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.


Like: