کرونا

Education posted on 4/10/2021 3:28:40 PM by Sana , Likes: , Comments: 0, Views: 717

کرونا
دور سے دستک ہوتے ہوٸے عبد الرحمن کے دروازے تک آ پہنچی۔ دروازے پہ چچا سرفراز اور ان کی بیگم پروین تھی ان کا بیٹا چاٸینہ میں مقیم تھا ۔ دونوں ماں باپ روزانہ گھر گھر دستک دیتے کہ "آٶ مل کے حکومت پہ زور ڈالے کہ ملکی و غیر ملکی بندرگاہیں کھول دے ہمارا بچہ واپس آ جاٸے! مگر لوگ چچا چچی سے ایسے دور بھاگتے جیسے یہ بھی چاٸینہ سے ہی آٸے ہیں ۔

کرونا 

از قلم ✍ شیبامرزاحنیف

دور سے دستک ہوتے ہوٸے  عبد الرحمن کے دروازے تک آ پہنچی۔ دروازے پہ  چچا سرفراز اور ان کی بیگم  پروین تھی ان کا بیٹا چاٸینہ میں مقیم  تھا ۔ دونوں ماں باپ روزانہ گھر گھر دستک دیتے کہ  "آٶ مل کے حکومت پہ زور ڈالے کہ ملکی و غیر ملکی بندرگاہیں کھول دے  ہمارا بچہ  واپس آ جاٸے! مگر لوگ چچا چچی سے ایسے دور بھاگتے جیسے یہ بھی چاٸینہ سے ہی آٸے ہیں ۔

"شادی تھی  میری  کینسل ہوگٸی ! فاطمہ غم سے نڈھال تھی مرتی تو میں مر جاتی, لگتی بیماری تو مجھے لگ جاتی ! ہاتھوں پہ مہندی لگاٸے ماں کی گود میں سر دیے  فاطمہ  اپنے ارمانوں کا لہو ہونے پہ ماتم کناں تھی جب کہ ماں سوچ رہی تھی قرض سر پہ چڑھ گیا اور بیٹی  گھر ہی بیٹھی رہ گٸی۔ 

"گھر کے چار لوگوں کے سوا کوٸی جنازے پہ شامل نہیں ہوا! دو بندوں کا جنازہ لے کے گیا ہوں قبرستان !۔کامران اپنے  دس سالہ بچے کی تدفین کر کے لوٹا تو تلملایا "اجتماع پہ پابندی ہے تو مرنے پہ بھی لگا دیتے ۔"     

"ناصر  میرے بچے میری طبیعت بہت خراب ہے  رات  کھانستے گزری سینے میں درد ہے مجھے ڈاکٹر کے پاس لے چلو  !

رشیدہ نے بیٹے سے التجإ کی 

"اماں خدا کے لیے گھر ہی کوٸی دیسی ٹوٹکہ کر لیں ہسپتال والوں نے کرونا کے شبہے میں ہم سب کو دھر لینا ہے اور حکومت  کے پاس  کوٸی  علاج نہیں ہے  جس پہ شبہ ہوتا ہے اسے زہر کا ٹیکہ لگا دیتے ہیں " اکیلے کمرے میں کھانستی ماں تنہاٸی کی موت مرنے لگی۔ 

 " رضیہ تمہاری بہن  سکینہ چل بسی  !

مجید بیگم کی طرف بھاگا

" ہاٸے اللہ میری جوان  بہن ! ہاٸے چھوٹے چھوٹے بچے!  رضیہ صدمے سے دوچار  بولی۔

" یہ کم بخت کرونا پاکستان بھی آ گیا؟ جان لے لی میری بہن  کی ۔ وہ سینہ کوبی کرنے لگی 

"نہیں  کرونا سے نہیں کپڑے استری کرتے کرنٹ لگا ہے":۔  

 "یس سر  ایک ہی خاندان کے لوگ ہیں "

کیا کرونا تصدیق ہو گیا؟  

دوسری جانب سے آواز سناٸی دی۔ 

"نہیں سر ! کرونا نہیں  پوری جیپ کھاٸی میں جا گری مرد حضرات موقع پہ ہی  دم توڑ گٸے ایک عورت اور اس کے دو  بچے زندہ ملے ہیں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہیں :۔

کیا کرونا ہی واحد  شے  رہ گٸی ہے جس سے اموات ہوں گی ؟کیا اس سے پہلے قدرتی آفات نہیں آتی تھی ؟   ٹریفک وارڈن  تنویر  نے موباٸل پہ اطلاع دیتے ہوئے  سوچا

"سکول پارک  بند ہیں میں کہاں سے دوں  تمہیں پیسے ؟

 سکول و پارک کے باہر پاپڑ بیچنے والے ماجد نے گھر کا خرچہ مانگتی بیگم  پہ ڈھار جماٸی  ۔

" پاپڑ نہیں بیچیں گے تو ہمارے گھر کھانا کیسے پکے گا ؟ بچے بھوکے  ہیں ! حکومت گھروں میں رہنے کی بجاٸے راشن  دے دیتی تو بھوکا نہ مرنا پڑتا :۔ 

ہاجرہ فکر مندی سے بولی۔

"ویسے  بی بی جی بہت نیک ہیں عمرے پہ جا رہی تھی  پابندی لگ گٸی "

 کبری نے برتن مانجتی صغری سے کہا  

"ہاں دیکھو تو کیسا عذاب آ گیا  ! اللہ کا گھر ہی بند ہوگیا :۔ 

صغری نے کانوں کو ہاتھ لگایا 

"توبہ توبہ  "پھر  کبری کو آنکھ مار کے بولی

"  چل یہ امیر  ہم غریبوں کی بد دعاٶں سے تو نہیں مرتے ، اب اس کرونا سے ضرور ہی مریں  گے ۔ رب کے بندوں پہ ظلم و ستم ڈھا کے چلے ہیں رب کو راضی کرنے :۔

" ہونہہ " تو اور کیا  سچ  ہی کہتی ہو عدالتوں میں انصاف نہیں گھروں میں پیار نہیں، اب تو  رشتوں میں  بھی نفع نقصان دیکھا جاتا ہے ۔ چلے ہیں بندوں کے رب بننے؟ جبھی تو رب ہی کی مار پڑی ان گورے منہ اور کالے دل والوں کو  اور اب پھرتے  ہیں منہ  چھپاٸے۔ پھر ایک دوسرے کے  ہاتھ پہ ہاتھ مار کے زور زور سے   ہنسنے لگیں ۔

"زرا دیکھو تو  احتیاطی تدابیریں ہی  ختم  نہیں ہو پا رہی ان بچاروں کی ! میں تو کہتی ہوں کورونا نہیں کشمیر کہنا چاہیے اس بیماری کو  جب اللہ کا  عرش ہلتا ہے نہ تو یونہی فرش ہلا دیا جاتا ہے ۔

کبری نے ہاتھ نچائے 

"حق ہے بہن حق ہے اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ورنہ  ہماری تو ساری زندگی  بغیر پرہیز کے ہی گزر گٸی ہاٸے  کٸی بار موت بھی  مانگی مگر وہ بھی نا آٸی:.

  گھر ، گاٶں کا  پسماندہ منظر نظروں کے سامنے گھوم گیا ۔

" ہاں مگر  پورا نظام زندگی تھپ کر دیا آج بھی تنویر مزدوری پہ نہیں گیا  روٹی کے لالے پڑے ہیں یہ کم بخت امیروں کے گناہوں کی سزا  غریبوں کو بھگتنی پڑتی بے ورنہ غریبوں کی تو ساری زندگی  گوبر کیچڑ میں ہی گزرتی ہے ۔ میرا خود  کا  بچپن زکام جوانی بخار بڑھاپا کھانستے گزر گیا!

  کبری اداسی سے کہتے ہوٸے ایک دم پرجوش ہوٸی 

"پتہ  ہے کل   بی بی جی نے  اپنے سارے پرانے سینے کپڑے، برتن مجھے چکا دیے ۔ میں نے جی کھول کے کرونا کو دعاٸیں دی "

" ہاں میرا رب دعاٸیں اور دعاٶں کی نوعیت بدل دینے کی طاقت رکھتا ہے ۔انہوں نے  چچا سرفراز کا بیٹا چاٸینہ سے  وطن واپس نہیں بلایا تھا مگر پھر بھی  کورونا  آ گیا "

کوٸی گھر جلے گا تو کوٸی سجے  گا 

کون ؟  کب تک  ؟ کہاں تک  لڑے گا ؟

جو گھڑیاں میسر ہیں جی لوں زرا 

جو آٸی اجل تو کہاں بس چلے گا ؟

۔۔۔   ۔۔۔   ۔۔  ختم شد ۔۔  ۔۔   ۔۔


Like: