طلاق

Education posted on 4/5/2021 2:15:01 PM by Abrahim , Likes: , Comments: 0, Views: 679

طلاق
خواہشات کی یلغار اگر طویل اور شدت اختیار کر جائے تو زندگی کی راہیں تنگ ہونے والی سمت کی جانب اشارہ کرتی ہیں قلب ایک ایسی شے ہے جس کے اچھے ہونے سے تمام اشیاء اچھی لگتی ہیں دل کا موسم خراب ہونے سے زندگی چلتی سانسیں بھی زہر لگتی ہیں بارش تیز چلتی ہوائیں کالی گھٹائیں سب دل کا موسم اچھا ہونے سے ہی دلکش لگتے ہیں

طلاق💔

ازقلم فاریہ علی🍂

خواہشات کی یلغار اگر طویل اور شدت اختیار کر جائے تو زندگی کی راہیں تنگ ہونے والی سمت کی جانب اشارہ کرتی ہیں قلب ایک ایسی شے ہے جس کے اچھے ہونے سے تمام اشیاء اچھی لگتی ہیں دل کا موسم خراب ہونے سے زندگی چلتی سانسیں بھی زہر لگتی ہیں بارش تیز چلتی ہوائیں کالی گھٹائیں سب دل کا موسم اچھا ہونے سے ہی دلکش لگتے ہیں دھوپ کی تپش بھی قلب کو سکون بخشتی ہیں فقط زندگی میں حسین انسان کی شمولیت سے یہ سب رنگ وابستہ ہیں دل کو کوئی انسان چھو جائے یعنی اگر سچ الفاظ استعمال کروں تو محبت ہو جائے تو اسے اپنے نکاح میں لے لو اللہ پاک نے دنیا کا سب سے پاک رشتہ شریک حیات کا رکھا ہے مگر اگر تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو ذہن میں طلاق کے الفاظ بھی گونج جاتے ہیں اگر تین بول بولنے سے زندگی حسین ہو جاتی ہے تو تین بول بولنے سے  زندگی کے پنے بھی تبدیل ہو جاتے ہیں اگر ہمارے معاشرے پر نظر ثانی کی جائے تو طلاق عام ہو گئی ہے اور اگر آج کل کے دور کا تذکرہ کیا جائے تو اس دور میں قصوروار کسی ایک کو ٹھہرانا نہ مناسب ہوگا اگر ایک طرف ضد ہے تو دوسری طرف انا اور تکبر کی جنگ اکثر اوقات تو اختلافات بڑھتے بڑھتے اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ نوبت طلاق تک ان پہنچتی ہے زندگی کی راہوں پر اختیار انسان کا ہے چاہے تو اسے آسان بنا لیں چاہے تو جہنم اللہ نے انسان کے لئے اگرچہ مشکل پیدا کی بھی ہے تو اس میں سے نکلنے کے راستے پہلے ہی پیدا کر دیے ہیں اگر ہم کسی کو اچھا مشورہ نہیں دے سکتے تو برا مشورہ دینے کا اختیار بھی ہمارے پاس نہیں ہیں برے مشورے دینے والے تو ایسے ہیں جو شہد بن کر آپ کی روگوں میں بیٹھ جاتے ہیں اور پھر وہی زہر بن کر رسنے لگتے ہیں عورت اگر دوسروں کے مشوروں کو زندگی میں اور اپنے گھرانے میں شامل کر لے تو زندگی اور عزت و مقام بدلنے میں دیر نہیں لگتی اگر میں اس کے ساتھ ذکر کرو بنت حوا کے گھر والوں کا تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بنت حوا کا گھر خراب کرنے میں سب سے زیادہ اس کے گھر والوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو سے بات بات پر شاء دیتے ہیں غلط مشورہ باکمال انداز میں دیے جاتے ہیں خیر معزز مہمانوں میں نے کہا نہ کیسی ایک کو قصور وار ٹھہرانا نہ مناسب ہوگا اگر ابن آدم کی بات کی جائے تو ذہن میں انا تکبر اور رعب جیسی اشیاء کا خیال و خاکا آتا ہے مرد کو اپنے مرد ہونے پر بڑا غرور ہوتا ہے اور اگر بات کی جائے ابن آدم کے گھر والوں کی تو بہت سی طلاقیں اس سبب بھی ہوتی ہیں کہ گھر والوں نے زندگی عذاب میں مبتلا کر دی ہے شاید وہ ان باتوں کو مد نظر نہیں رکھتے کہ ہم کسی کے ارمانوں کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ہم بہو بیاہ کر لائے ہیں نہ کہ کام والی جہاں ساس کو اپنی بیٹی عیش و عشرت میں چاہیے وہاں ہی بہو خود سے ڈری سہمی ہوئی اور اگر کڑوے الفاظ استعمال کروں تو جوتی کے نیچے چاہیے میرے معزز مہمانوں دنیا مکافات عمل ہے انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے حقیقی بات کو اگر سمجھا جائے تو کسی کی بیٹی کو اتنا ہی دکھ دو جتنا خود کی بیٹی کے لیے برداشت کر سکتے ہو مرد تو بہت سے رشتے اپنی انا میں ہار جاتا ہے عورت اپنی ضد کے آگے سب گوا دیتی ہیں مگر ایک آیت کو خوب اچھے سے جان لو اگر تم کسی کے ساتھ ناجائز کر رہے ہو تو امام شافعی اس آیت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت ظالم کے دل پر تبر اور مظلوم کے دل پر ٹھنڈی فوار کی مانند پڑتی ہے 

ترجمہ: (اور تیرا رب بھولنے والوں میں سے نہیں)

ایک حقیقت آپ لوگوں پر اور آشکار کرتی چلو کہ بہت سی طلاقیں فقط بیٹی پیدا کرنے پر بھی ہو جاتی ہیں طلاق دینے سے آسمان اور زمین کی تمام اشیاء ہل جاتی ہیں اللہ پاک بے حد ناراض ہوتے ہیں یعنی دنیا بھی خراب اور آخرت بھی اگر ہمارے معاشرے کی طرف دیکھا جائے تو یہ اطلاق تو دو لوگوں میں نہیں بلکہ دو خاندانوں میں ہوتی ہے جس کی دشمنی میں کئی رشتے احساس محرومیوں کی نظر ہو جاتے ہیں کی جان چلی جاتی ہیں اگر مسائل کو اعتدال محبت میانہ روی اور بڑوں کی سمجھداری سے حل کروایا جائے تو نوبت نہ طلاق تک آئے ہیں اگر ایک غصے سے کام لے رہا ہے تو دوسرا محبت کا مظاہرہ کرے کیونکہ رشتے محبت سے چلتے ہیں احساس سے چلتے ہیں بڑوں کے مشوروں سے زندگیاں سنوار جاتی ہیں طلاق دینا مسائل کا حل نہیں ہوتا باقی آپ مجھ سے زیادہ سمجھدار ہیں اور معاشرے کو مجھ سے اچھا دیکھ سکتے ہیں 

 

شکریہ♥️

تعارف : فاریہ علی

 

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

 


Like: