burhya-or-kawoo-ki-kahani-urdu-ghazal-kay-sath-by-farya-akram

Education posted on 5/19/2021 6:18:55 PM by Faria akram , Likes: , Comments: 0, Views: 987

burhya-or-kawoo-ki-kahani-urdu-ghazal-kay-sath-by-farya-akram
تجھ کو بھولنے واسطے۔۔۔ لوگ تو قلم کے محتاج ہیں۔۔۔

"بڑھیا اور کوؤں کی کہانی"

"اذقلم فارعہ اکرم"

 ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ گاؤں میں ایک کشادہ سی حویلی میں ایک بڑھیا اور اس کی بہو بانو رہتی تھیں۔جیسا کہ گاؤں کے لوگ بکریاں،بھینسیں،اونٹ اور بھی بہت سے پالتو جانور شوق سے رکھتے ہیں۔اسی طرح ان دونوں نے بھی گھر میں مرغیاں رکھی ہوئی تھیں جنھیں وہ باری باری دانہ دنکا ڈالتی تھیں۔صبح کے وقت بانو اور عصر کے وقت بانو ڈالتی تھی۔بانو رعونت بھرے لہجے والی اور پھوہڑ قسم کی عورت تھی اور بڑھیا نرم مزاج تھی۔ایک دن ایسا ہوا کہ بانو مرغیوں کو دانے ڈال رہی تھی کہ تین کوے تاڑ لگائے درخت پر بھیٹے تھے کہ جیسے ہی مرغیاں پیٹ بھر کر باہر نکلیں گی تو بچا کھچا دانہ دنکا وہ کھا لیں گے مگر ایسا نہ تھا کیونکہ بانو کی عادت تھی وہ مرغیوں کو دانہ دنکا ڈال کر پاس کھڑی رہتی جیسے ہی مرغیاں باہر نکلتی تو وہ وہاں سے جھاڑو لگا کر کچرے میں ڈال دیتی بنا یہ سوچے کہ یہ ضائع ہو جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ کتنا گناہ بھی ملے گا خیر جیسے ہی مرغیاں باہر نکلیں تو کوؤں نے جھٹیاں مارنا شروع کردیں لیکن بانو نے انھیں کھانے نہ دیا اور جھاڑو لگا دیا یہ سلسلہ کئ دنوں تک چلتا رہا کوے یہ سوچ کر آ تے رہے کہ کھبی تو یہ ہمیں کھانے دے گی مگر ناکام۔ پھر کچھ دنوں بعد بانو کو تین چار روز کے لیےاپنی ماں کے ہاں جانا پڑا اور اب صبح کے وقت بھی بڑھیا کو ہی دانہ دنکا مرغیوں کو ڈالنا پڑا۔اب بھی وہ کوے عادت سے مجبور بدستور وہی تاڑ لگائے درخت پر بھیٹے تھے جیسے ہی مرغیاں باہر نکلیں تو انھوں نے جھٹیاں مارنا شروع کردیں بڑھیا بھی بانو کی طرح کرنے لگی مگر پھر سوچنے لگی کہ یہ بچا کھچا دانہ دنکا ضائع ہو جائے گا اس سے بہتر ہے کہ کسی کے منہ میں آ جائے پھر وہ وہاں سے ہٹ گئی اور ایک سائیڈ پر بیٹھ کر کوؤں کو کھاتے ہوئے دیکھنے لگی کہ ایک کوا اپنی چونچ سے باقی دونوں کے منہ میں ڈال رہا ہوتا ہے وہ مسکرائی اور سبحان اللہ پڑھتے ہوئے کہنے لگی لگتا ہے ان کا باپ یا ماں ہے جو اپنا پیٹ بھر نے سے پہلے ان کی بھوک مٹا رہا ہے۔بانو کے آ نے تک ایسا ہی چلتا رہا مگر جب وہ واپس آ گئ تو اب بڑھیا روزانہ چھت پر دانے ڈال دیتی اور وہ کوے روزانہ کھا لیتے۔پھر ایک دن ایسا ہوا کہ بڑھیا بہت بیمار پڑ گئی اور چھت پر دانے نہ ڈال سکی کوے چھت پر دو تین دفعہ  آ ئے مگر دانے نہیں تھے۔کوے کاں کاں کرتے ہوئے درخت پر بیٹھ گئے اتفاقاً وہ بڑھیا بھی اسی درخت کے نیچےبخار سے لت پت چارپائی پر پڑی بانو کو آوازیں دے رہی تھی مگر وہ ان سنی کر دیتی۔ان کوؤں کی نظر اچانک بڑھیا پر پڑی تو وہ پاس پڑے کولر سے ہاتھ بڑھا کر پانی لینے کی کوشش کرتی ہے مگر اس کا ہاتھ پہنچ نہیں پاتا وہ کوے ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں پھر درخت سے اڑ کر کولر کے پاس آ تے ہیں ان میں سے ایک نے چونچ سے کولر کی ٹونٹی دبا کر رکھی اود باقی دونوں نے پنجوں سے گلاس کو مضبوطی سے پکڑ لیا اس طرح جیسے ہی گلاس بھر گیا وہ بڑھیا کے پاس رکھ کر اڑ گئے۔پہلے تو بڑھیا نے حیرانی سے ادھر ادھر دیکھا پھر پانی پی کر اللہ شکر ادا کرتے ہوئے کہنے لگی محبت اور احساس صرف انسانیت کا نام نہیں ہے کیونکہ انسانیت تو صرف انسان تک محدود ہوتی ہے کہ کسی نے مدد مانگی تو مدد کر دی اور اگر کسی کو درد یا تکلیف میں دیکھا تو وہ دور کر دی۔احساس کی کوئی زبان نہیں ہوتی یہ تو بس محسوس کیا جاتا ہے پھر چاہے وہ انسان ہو یا حیوان،چرند ہو یا پرند۔بہت سے لوگوں اور قوموں کی تباہی اور زوال کی وجہ یہی ہے کہ انھیں صرف انسانیت کا پارٹ پڑھا دیا جاتا ہے مگر احساس اور ہمدردی کی اہمیت سے اجاگر نہیں کیا جاتا۔ اللہ پاک نے اس دنیا میں کوئی بھی چیز بے مقصد نہیں بنائی پھر چاہے وہ انسان ہو یا حیوان،چرند ہو یا پرند بس ہر انسان کے دیکھنے کا نظریہ الگ الگ ہوتا ہے۔سخت مزاج اور بے رحم انسان کو لوگ کہتے ہیں کہ یہ پتھر دل ہے مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ جیسے اللہ پاک نے دماغ سب کو ایک جیسا دیا ہے بس دیکھنے اور سوچنے کا طریقہ الگ الگ ہوتا ہے اور یہ انسان پر انحصار کرتا ہے کہ وہ کیسی سوچ رکھتا ہےایسے ہی دل بھی سب کا ایک جیسا بنایا ہے۔ اس لیے دل پتھر نہیں ہوتا سوچ پتھر کی طرح ہوتی ہے جو جسے لگتا ہے نقصان پہنچاتا ہےاور یہ وہ پتھر ہے جسے طاقت نہیں محبت ہلا سکتی ہے اور ایسی سوچ کا ہلنا اود بدلنا ضروری ہے ورنہ انسان اکیلا رہ جاتا ہے۔

"غزل"

اذقلم فارعہ اکرم

تجھ کو بھولنے واسطے کسی اور کو سوچتی رہی
مگر دل کی دھڑکنوں پہ نام تیرا ہی لکھتی رہی
مسکرا کر چہرا تو،ہر کسی سے ملتا رہا
مگر آ نکھ ہمیشہ تمہیں ہی ڈھونڈتی رہی
بڑے جوش سے جب تمہیں الوداع کہتی رہی
قسم سے روح تب بھی میری کانپتی رہی
لیکن تو زمانے کے تقاضوں کو سمجھتا رہا
میں بھول کر بھی تمہیں اپنا خدا کہتی رہی
لوگ تو قلم کے محتاج ہیں اکرم
ہم نے سانسوں سے دل پہ تیرا نام لکھا
لوگ محبتوں کی بات کرتے ہیں
ہم نے تیری نفرت کو بھی،محبت سے دل میں رکھا
لوگ فقط جدائی پہ بھی رو دیتے ہیں

 

ہم تیری بے وفائی پہ بھی ہنس دیتے ہیں

Like: