یقین کا سفر

Education posted on 5/3/2021 12:15:44 PM by Ansa Awan , Likes: , Comments: 0, Views: 846

یقین کا سفر
اللہ پر یقین کے سفر میں قدم بہ قدم چلتے رہو تو منزل مل کر رہے گی۔

 یقین کا سفر

                  از قلم:آنسہ اعوان

یقین۔۔ اس لفظ میں بہت سے جذبات اور احساسات چپھے ہیں۔۔ کسی کی ذات پر یقین رکھنا، اور یہ یقین اگر انسانوں میں سے کسی پر رکھنا ہو تو مطلب درد اور تکلیف کا آغاز ہوا۔

یقین کے ٹوٹ جانے کے خدشے سے ، مان کے کچلے جانے کے ڈر سے سہم کر آنکھیں میچ کر چلتے جانا۔۔  کہ اس سفر میں خود کو درد میں مبتلا کیا جاتا ہے، انسانوں پر یقین ہونا درد خریدنے کے برابر ہے۔ اور جب یقین ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو جاتا ہے تو ہاتھ زخمی ہو جاتے ہیں، آپ خالی دامن رہ جاتے ہیں۔۔ 

پھر یہی یقین اگر اس ذات پر کیا جائے جو وہاں اوپر بیٹھی ہے، جس پر یقین کر کے کوئی خدشہ پاس سے نہیں گزرتا، یقین کی دیوار کسی بھی دراڑ سے پاک رہتی ہے، جہاں یقین ذرا سا بھی نہیں ڈگمگاتا، آپ ٹوٹ کر بکھرتے نہیں ہیں ، خالی دامن نہیں رہتے تو پھر یقین کی یہ سیڑھی لمحہ بہ لمحہ پختگی کی طرف سفر کرتی ہے۔۔ 

اس اعلیٰ ذات پر یقین کرنے کےلیے  ایمان کا  ہونا لازمی شرط ہے، بس مسلسل چلتے رہنا کہ انسانوں پر یقین کے سفر میں پاؤں زخمی ہونے کا خدشہ رہے لیکن اللہ پر یقین کے سفر میں ایمان کی مضبوطی ملے 

 اس سفر میں خود کو اللہ رب العزت کے آسرے پر چھوڑ دینا۔ بہت سی غیر ضروری اور منفی سوچوں سے بے نیاز ہو کر ایک نقطہ پر مرکوز ہو جانا اور وہ نقطہ ہے ( لا) "نہیں" کا۔۔۔ 

(لا) "نہیں" مطلب کچھ بھی نہیں۔۔ ، یقین کے سفر میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں، دل میں کوئی وسوسہ باقی نہیں، ہر چیز رد ہوجائے اور پھر بس آپ ہوں اور وہ ذات اور آپکا اس ذات پر بڑھتا ہوا یقین۔۔ 

یقین کی پختگی کےلیے  "لا" کا بھی سمجھنا ضروری ہے۔ جب سوچ میں کوئی شک باقی نہ رہے، جب نفس کو سننے سے پہلے اسکی کہی کو رد کر دیا جائے، پورے وجود کو یقین کے پختہ محور کے گرد رقصاں کر دیا جائے۔

سوال کیا گیا! اگر اللہ کی پاک ذات پر یقین رکھنے کے بعد بھی شک کا عنصر موجود رہے؟ اگر نفس کا پتھر بار بار پڑتا رہے آپکو شک میں مبتلا کرتا رہے ؟ پھر کیا کریں؟

تو پھر سمجھو کہ "لا" کی تفسیر میں خود کو ڈھالنے میں ابھی وقت باقی ہے، ابھی کچھ وقت درکار ہے، تو وقت کے اس چلتے پہیے کے ساتھ کوشش کو جاری رکھو، پختگی کی جانب سفر کرتے رہو۔۔ اور جب یقین میں ایک ذرہ برابر بھی شک باقی نہ رہے، جب نفس شور مچانا چھوڑ دے، جب ذہنی سکون مل جائے تو سمجھو منزل مل گئی۔۔

 


Like: