غزل : شبِ ماہتاب تھی مگر!

تاریخ شائع 01-10-2021, تصنیف کردہ : فارعہ اکرم (Akram195)
درجہ بندی:

"شبِ تنہائی"

 

اذقلم: فارعہ اکرم

 

شبِ ماہتاب تھی مگر!

آ دھے چاند کی،

برسات آنسوؤں کی تھی مگر!

آ نکھ میری تھی،

سفرتنہائ تھا مگر!

کوئی منزل نہیں تھی۔

لفظ اسی کے تھے مگر!

زبان میری تھی،

دل پیار کا ٹوٹا مگر!

جان میری تھی،

پھر مرحم وقت تھا مگر!

زخم میرا تھا،

تب چمکا ستارہ امید کا مگر!

چاند سے دور تھا،

پھر باندھاحوصلہ دل سے مگر!

انتظار بہت کٹھن تھا،

یوں کٹی شبِ تنہائی مگر!!

بس کٹ ہی گئی شبِ تنہائی

 

متعلقہ اشاعت


غزل

غزل

غزل

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں