غزل : میں جب چلی جاؤں گی

تاریخ شائع 22-06-2021, تصنیف کردہ : فارعہ اکرم (Akram195)
درجہ بندی:

غزل

اذقلم فارعہ اکرم

----------------

میں جب چلی جاؤں گی

تو آنکھ تیری بھی نم ہو گی

رخ موڑوں گی تیرے آنگن سےتو

دل کی دھڑکن تیری بھی تھم جائے گی

دے گی دل پہ دستک جب محبت

نہ سنے گی صدا کوئی نہ ہلچل ہو گی

اشکبار ہوں گے جب یہ مخمور نینا

تو معصوم دل کی قیامت ہو گی

وہ سخن جو شگاف جگر تھی

تیرے سینے کو بھی چاک تو کرتی ہوگی

ہواؤں کی ہلچل میں،بارش کی چھن چھن میں

میری یاد تو ستاتی ہو گی

مانگوں رب سے تجھے یہ فشار دل تھا

وگرنہ آثم وفا سے محبت کرنا بھی رسوائی ہو گی

۔۔۔۔۔۔

 

متعلقہ اشاعت


غزل

غزل

غزل

غزل

غزل

غزل

غزل

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں