غزل : غزل

تاریخ شائع 14-08-2021, تصنیف کردہ : فارعہ اکرم (Akram195)
درجہ بندی:

غزل

از قلم فارعہ اکرم

رہتا ہے دل کچھ برہم،کچھ لہجوں نے مارڈالا

ظریف تھے شاید جو سہتے رہے

وگرنہ ارادے تو کچھ اور ہی تھے

وقت زد میں تھا یا خزاں کا موسم تھا

صداگر آنکھ کو جو لب بستہ کر گیا

وگرنہ آ سیب دل کے تقاضے کچھ اور ہی تھے

وہ بارش کی دھوپ تھی کہ بکھری رنگولی

وگرنہ بادلوں کی آہٹ کے طلب کچھ اور ہی تھے

ٹوٹ گئ آس وامید ملنے کی اکرم

بجھ گئے چراغ دل کے انتظار کرتے کرتے

وگرنہ سجائے تھے خواب جو کچھ اور ہی تھے

 

 

متعلقہ اشاعت


غزل

غزل

غزل

غزل

غزل

غزل

غزل

غزل

غزل

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں