غزل : زندگی تیری شمع کو جلتے دیکھا

تاریخ شائع 09-10-2022, تصنیف کردہ : فارعہ اکرم (Akram195)
درجہ بندی:

غزل

 

از قلم: فارعہ اکرم

 

زندگی تیری شمع کو جلتے دیکھا

دل باغباں کو ریزہ ریزہ ہوتے دیکھا 

کوئی رکھ کے بھول گیا شاید گل داں اپنا

  حسرتوں کے باغ میں نہیں پھول کھلتےدیکھا 

منڈلاتے ہیں ہزاروں پروانے چراغ کے گرد

مگر شدت شمع کو نہیں کم ہوتے دیکھا

یوں ہی گزر رہا ہے وقت بھی آ رزوئوں میں

کاش وشاید کی الجھن میں ہر شخص متلاشی دیکھا

کہنے کو تو ادھورا ہے ہر شخص لیکن

مرجھا کر پھول کھل اٹھے ،کبھی نہیں دیکھا

نظر آ تش کر کے بھی وہ تلافی کے حقدارہوئے

ایسی ندامت پہ ان کی منظر موت کو مسکراتے دیکھا

اوروں سے کیا شکوہ میری زات کو اکرم

جب قسمت کو تقدیر کے آ گے بل کھاتے دیکھا 

 

 

متعلقہ اشاعت


غزل

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں