غزل : میرے درد کو تو آواز دیں

تاریخ شائع 04-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

غزل

 

میرے درد کو تو آواز دیں 

تو مجھے مشکلوں میں پھر سے ڈال دے 

میری آہ و پکار پہ یوں کان نہ دھر 

میرے درد کو تو لفظ بہ لفظ مٹا دے 

میرے مرنے کی دعا نہ کر 

کر کوئی کرشما مجھ میں نئی روح تو ڈال دے 

میری زلفوں کی چاندنی بتا دیتی ہے میرے غم کو 

زغم ہستی مجھے تو میری سزا و جرم بتا دے 

ہے اگر راستہ رہائی کا کوئی 

تو مجھے ان مشکلوں  میں سے نکال دے 

اے کرشمہ گر کر کوئی کرشمہ 

فاریہ مجھ کو تو آواز دے 

میرے درد کو تو مٹا دے 

میرے درد کو تو مٹا دے

متعلقہ اشاعت


غزل

غزل

غزل

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں