کالم : ہمارا تعلیمی نظام

تاریخ شائع 07-05-2022, تصنیف کردہ : شیخ ہابیل (SheikhHabeel)
درجہ بندی:

Hamara Taleemi Nizam, ہمارا تعلیمی نظام. ہمارا تعلیمی نظام

   ہمارا تعلیمی نظام

               ازقلم: شیخ ہابیل

تعلیم ایک زیور ہے، ایک ایسا زیور جو سب کے پاس موجود نہیں ہے، مگر جن کے پاس ہے وہ اِس سے دور بھاگ رہے ہیں اور جو اِس سے محروم ہیں وہ اِسے حاصل کرنا چاہتے ہیں. 

 

اگر پاکستان کی تعلیم پر بات کی جاۓ تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ہمارے ملک میں تعلیم کا نظام بالکل تباہ ہوچکا ہے. اب کسی کو بھی تعلیم حاصل کرنے میں کوٸ دلچسپی نہیں رہی. اِس کی سب سے بڑی وجہ ہمارے تعلیمی ادارے ہیں کیونکہ اب تعلیمی اداروں میں تعلیم براۓنام ہی رہی ہے. اگر طالبعلموں سے پوچھا جاۓ کہ وہ اسکول یا کالج کیوں نہیں جاتے تو کہتے ہیں کہ کلاس میں ٹیچر نہیں آتے، اور اگر ٹیچرز سے پوچھا جاۓ کہ وہ بچوں کو پڑھانے کلاس میں کیوں نہیں گٸے تو کہتے ہیں کہ بچے آتے ہی نہیں ہیں کلاس میں کس کو جاکر پڑھاٸیں.

 

اگر پرائيویٹ اسکولوں کی بات کی جاۓ تو انہوں نے تعلیم کو کاروبار بنا دیا ہے. آج کل جو شخص بھی بیروزگار ہوتا ہے وہ اپنے گھر کو اسکول میں بدل دیتا ہے اور بچوں کے مستقبل کو داٶ پر لگا دیتا ہے. یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ تعلیم کو سب سے زیادہ نقصان پرائيویٹ اسکولز کے مالکان نے پہنچایا ہے. 

 

ہمارے یہاں کتابيں سڑکوں پر پڑی ہوتی ہیں جبکہ جوتوں اور چپلوں کو ایٸرکنڈیشنر رومز میں رکھا جاتا ہے. آپ ذرا خود سوچیے جہاں استادوں کا مذاق اڑایا جاۓ، جہاں تعلیم کا مذاق اڑایا جاۓ، جہاں کتابوں کی ناقدری کی جاۓ وہ قوم بھلا کس طرح ترقی کرسکتی ہے. 

 

بچے جو بیگ اسکول لے کر جاتے ہیں اُس کا وزن بچوں کے اپنے وزن سے زیادہ ہوتا ہے. میں یہ سمجھتا ہوں کہ تعلیم کا نظام خراب کرنے میں ماں باپ بھی قصوروار ہیں. آج کے دور میں ماں باپ بچے پر بہت زیادہ سختی کرتے ہیں، اُسے کہتے ہیں کہ اِس سال تمہارے کم از کم 90 پرسنٹ آنے چاہیے اور اگر وہ بیچارہ 90 پرسنٹ نہ لاۓ تو اُسے سارا سال کسی دوسرے بچے کی مثال دے کر طعنے مارتے ہیں. ایک تو بچوں کا اسکول سلیبس اتنا ہارڈ ہوتا ہے جس کی کوٸ حد نہیں اوپر سے 90 پرسنٹ کا کہہ کر ماں باپ بچے پر اور بوجھ ڈال دیتے ہیں. اُس بیچارے کا آدھا سال یہی سوچتے ہوۓ گزر جاتا ہے کہ اگر میں 90 پرسنٹ نہ لاپایا تو کیا ہوگا. تمام والدین سے میں ایک گزارش کرتا ہوں کہ بچے کی ٹینشن کو کم کیجیے، اگر اُسے کوٸ پریشانی ہے تو اُس کی ہیلپ کیجیے، اپنا نام روشن کرنے کے چکر میں بچے پر بوجھ مت ڈالیے.

 

ہمارے یہاں تو لاٸبریریوں کا حال بھی بہت خراب ہے. کچھ دنوں پہلے کی بات ہے میں لاٸیبریری میں بیٹھا ہوا تھا کہ میرے برابر میں بیٹھے ہوۓ ایک بندے کو کسی کی کال آٸ اُس نے کال اٹینڈ کرکے جس طرح فون پر بات کی ہے مانو وہ لاٸبریری میں نہیں بلکہ کسی بیٹھک پر بیٹھا ہو.

 

یہاں مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر آگیا، انہوں نے کہا تھا کہ:

            حیرت ہے کہ تعلیم و ترقی میں ہے پیچھے...

               جس قوم کا آغاز ہی اقرإ سے ہوا تھا.

        

آخر میں میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ اگر ہمیں ترقی کرنی ہے اور دنیا کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہے تو ہمیں تعلیم کو فروغ دینا ہوگا. تعلیم کے بغیر ہم کبھی ترقی نہیں کر سکتے. 

 

متعلقہ اشاعت


کالم

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں