تحریر : افسوس

تاریخ شائع 04-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

افسوس, افسوس. افسوس

افسوس 

ازقلم فاریہ علی

آج مرنے کی دہلیز پر کھڑی میں اپنے پورے وجود پر غور کر رہی تھی میرے پورے جسم میں سوائے ہڈیوں کے اور گوشت  جو کہ کمزوری کی وجہ سے لٹکا ہے اور کچھ نہ پایا وہ حسن جس پر کبھی بڑا مان ہوا کرتا تھا وہ بالکل ہی ڈھل چکا ہے وقت جیسے پر لگا کر اڑ چکا ہوں ابھی انہی سوچوں میں گم تھی کہ مجھے یاد آیا جو چھوٹے ہوتے ہیں ماں کے ایک بار پیار سے فاریہ کہنے پر اپنے کالے بالوں میں کنگھا کروایا کرتی تھی اب ان میں چاندی اچکی ہے میرے عشق و محبت کے سارے افسانے فسو ہوچکے تھے  میرے چہرے پر جھریاں پڑ چکی ہیں  عمر رفتہ کے ہر دن میرے چہرے پر گویا کہ کش لگا دیے ہو میری ساری باتیں تحت شعور میں جا رہی ہیں پھر مجھے میری آنکھوں کا خیال آیا یہ وہی آنکھیں ہیں جس کی تعریف نہ جانے کتنے لوگوں نے کی تھی بڑی بڑی اور خوبصورت مگر قدرت کا قانون اور وقت کا کرشمہ یہ تھا کہ اب یہ اندر جا چکی ہیں اور اتنی کمزور ہوچکی ہیں چشمے کے بغیر دیکھنے کا تو تصور ہی پیدا نہیں ہوتا میرا ذہن میرے منہ کے خالی حصے کو محسوس کرنے لگا کہ یہاں کبھی دانت ہوا کرتے تھے میری نظر میرے ہاتھوں پر پڑی  یہ وہی ہاتھ ہے جس نے اپنی أدھی زندگی اپنے بچوں کے لئے روٹی سالن پکاتے ہوئے گزار دی اور گھر کے کام کاج بھی کیے مگر اب یہ سوکھ کر بالکل ہی ڈھانچہ ہو چکے ہیں  ہاتھ کانپنے لگے ہیں اور زبان تو الفاظ ساتھ ہی نہیں دے پا رہی  مجھے میرے پیروں کا درد محسوس ہوا تو یاد آیا کے سردیوں کی وجہ سے پیروں کی ایڑیاں پھٹ چکی ہیں موزوں کے رویے میں کھال اٹک  رہی ہے مجھے اپنی حالت پر یکدم رحم آیا زندگی کے حسین لمحات نے بوڑھے ہونے کا نقشہ ذہن کو کبھی کھینچنے ہی نہیں دیا تھا مگر آج بستر مرگ پر پڑی مجھے سب یاد آ رہا تھا عمر رفتہ کو آواز دے کوئی میرے سارے پیارے مجھ سے دور ہوتے جا رہے ہیں دل کی جو انتہائی قریب تھے وہ گم گشتہ ہوتے جا رہے ہیں اور ایک دل تھا جو خواہشات کے بغیر خولہ پڑا تھا میری زندگی کا سب سے بڑا روگ تو اس وقت میرے ذہن پر پوری طرح حاوی ہیں وہ یہ کہ ساری زندگی دنیاوی گھر  کی تیاری میں مشغول رہی  مگر اب ہمیشہ کے گھر کے لیے دونوں ہاتھ خالی ہیں آج اماں کی بات پوری شدت سے میرے ذہن میں گھر کر گئی اور مجھے رفتہ رفتہ سمجھ بھی آ رہی تھی مگر اب اس کا کیا فائدہ تھا اماں ہمیشہ کہا کرتی تھی  بیٹا فاریہ جاگ رہے ہیں تو سو رہے ہیں جس دن سو گئے اس دن جاگ جائیں گے آج سمجھ آئی اماں ایسا کیوں کہا کرتی تھی مگر اب کیا ہو سکتا ہے میرے پاس سوائے افسوس کے کچھ باقی نہ بچا تھا.

 

تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں