تحریر : عورت

تاریخ شائع 04-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

عورت, عورت. عورت

عورت

ازقلم فاریہ علی

ایم سوری ہم آپ کی بیوی کو نہیں بچا سکے مگر آپ کو مبارک ہو آپ کے ہاں بیٹی ہوئی ہے بیٹی بیٹی کا سن کر وہ کچھ اس انداز میں بولا کہ بیٹی ہونا جرم ہو اتنے میں پیچھے سے آواز آئی آئے ہائے آتے ہی ماں کو نگل گئی اللہ جانے آگے کیا کیا نقصان کرے گی بوڑھی سی آواز مگر الفاظ ایسے کوئی بھی سن کر حیران رہ جائیں گے خود تو مر گئی اور ہمارے حوالے ایک اور مصیبت کر گئی وہ عورت شاید یہ بھول گئی تھی کہ وہ خود بھی عورت ہے اور جس نے اسے پیدا کیا وہ بھی عورت تھی   اماں چپ ہو جاؤ اور گھر چلو آج اس کی ماں کو مرے پورے پندرہ دن ہو گئے تھے مگر میں ایسا سماء  تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں مگر کسی کو کیا خبر تھی کہ بچی کا تو کچھ بچا ہی نہیں جب عورتیں بچی کو دیکھتی تو طرح طرح کی باتیں کرتی آج ایسے ہی بات سامنےکھڑی ہوئی عورت کر رہی تھی بچی کو دیکھ اتے ہی ماں کو کھا گئی دادی بیمار ہوگئی بہن اس گھر کا سکون برباد ہو گیاماں کو کھا گئے لوگ ایسے بولتے جیسے زندگی اور موت اولاد یعنی اگر میں سخت الفاظ استعمال کروں تو بیٹی کے ہاتھ میں ہے جب کہ یہ چیز تو ہمارے اللہ کے اختیار میں ہے  مگر اگر میں اس حساب سے ہمارے معاشرے کی حقیقتیں لکھوں بیٹی کے متعلق تو شاید یہ صحفے سیاہی  ختم ہو جائے اور لوگ مجھ سے حقیقتا نفرت کرے مگر یہ بھی سچ ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہیں نہ کہ اولاد خاص کر بیٹی کے ہاتھ میں  ہم بیٹیاں اگرآسمان میں اڑنے کے خواب  کے خواب دیکھ بھی لے تو ریتی رواجوں  کی چادر اڑا کر کونے میں سجا دیا جاتا ہے  ایک اور حقیقت بھی ہے جسے ہم سب عورتوں کو اور بیٹیوں کو سمجھنا اور تسلیم کرنا چاہیے کہ ایک عورت شوہر بیٹا بھائی باپ کے بغیر نہیں چل سکتی ہم بیٹیوں کو یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ہماری عزت بھی ہمارے ساتھ لگنے والے نام کی وجہ سے ہوتی ہے پھر چاہے وہ نام باپ کا  ہو یا شوہر کا ہم بھائی کا مان باپ اور شوہر کی عزت اور بیٹے بیٹی کی جنت ہوتی ہیں ہمیں  معاشرے میں سوچ سمجھ کر اور دیکھ بھال کر چلنا چاہیے ہمارے معاشرے کے لوگ عزت کے کس دہانے پر کھڑے ہیں  شاید یہ مجھے بتانے کی ضرورت نہیں موٹروے پہ عورت پر کیا گزری مجھے یہ بھی بتانے کی ضرورت نہیں ہے وہ ہمارا معاشرہ خوب جانتا ہے اور آپ لوگ مجھ سے بہتر جانتے ہیں

 


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں