تحریر : بے رحم لوگ

تاریخ شائع 03-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

بے رحم لوگ, بے رحم لوگ. بے رحم لوگ

بے رحم لوگ 💔

ازقلم فاریہ علی ♥️

نگاہوں کے سامنے سے ایک بوڑھا ضعیف بے بس بے چین روخ شہوار گزرا اس کی بے بسی بے چینی کو دیکھ کر آج ایک بار پھر میرے قلب نے مجھے لکھنے پر مجبور کر دیا  آج ایک بار پھر معاشرے کی تلخ حقیقت کو دیکھ کر معاشرے کا دوسرا رخ دیکھ کر میں نے خود کو بے حد بے بس محسوس کیا ہم ایک ایسے اندھے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں کوئی بےڈھنگ اور ڈھونگی بابا سفید داڑھی رکھ لے اور تن پر گنے چنے لباس کو ترجیح دے تو کہا جاتا ہے سرکار بہت پہنچی  چیز ہیں اور ہم اندھے ایسے ہیں جہاں کوئی ضعیف و کمزور محنت کرتا نظر آئے تو اپنی طاقت کا زور دیکھا کر بد دعائیں لینے میں دیر نہیں لگاتے وقت کے جال کو اپنی اوقات کو بھول جاتے ہیں جہاں ہم یہ ڈھونگی سرکاروں کے چیلے بنے پھرتے ہیں جن کی من گھڑت کہانیوں پر یقین رکھ کر خدا جانے کیا کیا کر گزرتے ہیں اس کا اندازہ ہم بالکل نہیں لگا سکتے اور ہمارے معاشرے میں بڑے عہدے ایسے لوگوں کو نواز دیے جاتے ہیں انسانیت کے سبق سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہمارے معاشرے میں کرونا سے کم لوگ بھوک سے زیادہ اس دنیا سے پردہ کر گئے دل کو بےچینی کی حالت میں صبر نہ آیا وہ بوڑھا ضعیف چہرہ نگاہوں کے تعاقب میں رہا کہ محنت کرنے والے کی محنت کو اس کی سبزیوں کو نگاہوں کے سامنے کوئی عہدے دار آکر اپنی طاقت کے ذریعہ سڑک پر بکھر جاتا ہے اور ہم بزدل ناکارہ خاموش کھڑے رہتے ہیں عہدے دار تو کیا کسی نے پلٹ کر مڑ کر نہیں دیکھا کہ جب کمزور بوڑھا محنت کش خالی ہاتھ گھر جائے گا تو اپنے بھوک سے انتظار کرتے بچوں کو کیا جواب دے گا حدیث کی رو سے دیکھا جائے تو صاف ظاہر ہے کہ جب اللہ ہم سے ناراض ہوتا ہے تو بے وقوف اور نہ واقف شخص کو حکمران بنا دیتا ہے ہمارے اپاہج معاشرے میں صرف زور طاقت کا اور پیسے کا چلتا ہے ورنہ غریب تو ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے اور سننے والا کوئی موجود نہیں ہوتا ظالم کا ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے تو اللہ کی بے آواز لاٹھی اپنا کام دکھاتی ہے کیا لوگوں نے سنا نہیں کہ اللہ نے ان کو ڈھیل دی ہوئی ہے اللہ رسی کھینچتا ہے سب کچھ نظر نہیں آتا زمین خود پر تنگ ہوتی معلوم ہوتی ہے پیسہ طاقت عہدے کے نشے میں چور یہ عہدے دار موت سے ناواقف ہیں بعد کے حساب و کتاب کو بھول گئے ہیں اللہ کی بے آواز لاٹھی کو بھول گئے ہیں 

امام شافعی فرماتے ہیں کہ ایک آیت ایسی ہے جو ظالم کے دل پر تبر  اور مظلوم کے دل پر ٹھنڈی فوار کی مانند پڑتی ہے 

ترجمہ ( بے شک تیرا رب بھولنے والوں میں سے نہیں ہے ) 

عہدے داروں کو ناواقف حکمرانوں کو ایک طرف رکھ کر ہم اپنی ہی بات کریں تو خدا جانتا ہے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں ہم ایسے اندھے معاشرے کا حصہ ہیں جہاں بے ڈھنگ اور  ڈھونگی بابا کو چڑھاوے اور ہزار روپے دیتے ذرا نہیں سوچتے اور کسی غریب مجبور شخص کو پیسے دینے کی بات آئی تو حالات کرونا کام کھر کے خرچے ہمارے ذہن میں گردش کرنے لگتے ہیں ہم بڑے ہوٹلوں، من چاہی چیزوں کو کھانے میں بے شمار پیسے صرف کر دیتے ہیں مگر جب بات کسی ڑیڑی والے سبزی خریدنے کی آے تو کتنے ہی گھنٹے پیسے کم کرنے کی بحث میں وقت گزار دیتے ہیں اور خود کو یوں معلوم کرتے ہیں کہ ہم بہت غریب ہیں اور جب بے وقوف کمینے لوگ عروج پاتے ہیں اپنی اوقات بھول جاتے ہیں معذرت کے ساتھ مجھے یہی الفاظ مناسب لگے میری سمجھ سے بالاتر ہے یہ بات مظلوم کی آہ لنے والے کبھی فتح یاب ہو سکتے ہیں میری باتیں زیادہ کڑوی تو نہیں مگر قابل غور ضرور ہے لہذا خود کو بدلیں اللہ کی راہ میں خرچ کریں زمین والوں پر رحم کریں تاکہ آسمان والا ہم پر رحم فرمائے یہ تو سب جانتے ہیں 

(بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے )

اسی ڑیڑی والے پر یا مظلوم پر ظلم نہ کریں سے محنت کش کی محنت کو تباہ نہ کریں اپنے ضمیر کو جگائے اس سے پہلے کسی کا صبر اور بددعا ہم پر آن پڑے 

باقی آپ لوگ مجھ سے زیادہ سمجھدار اور عقل والے ہیں 

شکریہ❤️

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں