تحریر : چائے اور تمہاری یادوں سے محبت

تاریخ شائع 03-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

چائے اور تمہاری یادوں سے محبت, چائے اور تمہاری یادوں سے محبت. چائے اور تمہاری یادوں سے محبت

 

چائے اور تمہاری یادوں سے محبت

ازقلم فاریہ علی

مدھم سی ٹھنڈی رات ایسے میں گہرا اندھیرا جو ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لے مگر قلب کو اداس کرنے والی اشیاء بھلا کب منتظر ہوتی ہیں اجالے کی دیکھو ذرا اندھیری رات میں چائے کے مگ کے ساتھ چھت پر کھڑے ہو کے نہر کے آب کو خاموشی سے بہتا ہوا دیکھنا رات کے اندھیرے میں بے شمار شجر جو ساکن کھڑے ہو ایسا لگتا ہے جیسے کسی خوشگوار ہوا کے انتظار میں ہے نہر کنارے تنہا لڑکا اداسی کی حالت میں پرجوش ہوکر کچھ اداس ریدھم چھیڑ دے تو ہر شے کو مزید اداس بنا دیتا ہے تو قلب ایک انجام سی راہ کی جانب نظر گھماتا ہے کہ نہ جانے کون سی راہ سے تم لوٹ آؤ اس اداس کھڑی بنت حوا کو خوش کر جاؤ نجانے کب یہ اندھیری راتیں ختم ہو نہ جانے کون سی گھڑی یہ شجر بھی گھوم کے خوشگوار ہوا کا پیغام دیں نہ جانے کب یہ چاند چاند مہتاب بن کر جلوہ فیروز ہو اپنی چاندنی سے ہر چیز کو روشن کر دے میرا نہیں خیال کہ چاند تنہا ہوا ہے بے شمار ستاروں میں چودھویں کے چاند کو کبھی دیکھا ہے اپنی چاندنی کے ساتھ کس قدر عاشقانہ طبیعت رکھتا ہے تنہا ہونا تو اشرف المخلوقات کی صفت ہے وہ صفت جو اس نے اپنے لیے خود پیدا کی ہے ورنہ خدا تو شہ رگ سے بھی زیادہ نزدیک ہے میری تحریرات میں اب تمہارا عکس صاف نظر آتا ہے چھپانے سے جو چھپ نہ سکے وہ شیاء ہو تم میں چائے کے مگ کے ساتھ نہ جانے کون سی وادیوں میں اتر جاتی ہو جہاں ہر چیز تمہارا عکس بنا دیتی ہے لہذا معلوم ہوا چائے کے اندر وہ تمام ہنر ہیں جو کسی اور چیز میں نہیں یہ انسان کو خود سے ہمکلام ہونے پر مجبور کر دیتی ہے خود سے خود کو ملاتی ہے تمہارا تصور ایک اچھے انداز میں میرے سامنے پیش کرتی ہے ہر ردھم ساز کو اداسی کی دھن سے ہٹا کر میٹھے سر میں تبدیل کر دیتی ہے تنہائی دور کرکے ماحول کو خوشگوار بنا دیتی ہے رات کے اندھیرے میں ہر چیز کو محسوس کرنے پر مجبور کر دیتی ہیں بادلوں کو بارش کے قطروں کو ٹھنڈی ہوا کو وجود سے منسلک کر کے آزادی کا احساس دلاتی ہے بدلتے موسم اور لوگوں کے ساتھ پیغام دیتی ہے ہر چیز تبدیل ہو سکتی ہے سوائے چائے کی رنگت کے خوشبو ذائقہ اور لذت کے اگر میں ہر چیز کو مختصر کر دو تو میری چائے کے ساتھ تم وابستہ ہو میری ہر میری یاد تم سے وابستہ ہے نصرت چائے کالی لمبی سڑک اور ایسے میں تمہارا ساتھ میری کل کائنات ہے مجھے چائے کے ساتھ ساتھ تمہاری یادوں سے محبت ہے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں