تحریر : میں تمہیں آزاد کرتی ہوں

تاریخ شائع 04-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

میں تمہیں آزاد کرتی ہوں, میں تمہیں آزاد کرتی ہوں. میں تمہیں آزاد کرتی ہوں

 میں تمہیں آزاد کرتی ہوں

افسانہ

ازقلم فاریہ علی

ہم درد کے ستائے ہوئے لوگ اگر کوئی چھوڑ کر چلا بھی جائے تو شکایت نہیں کرتے تمہاری دی ہوئی اداسی میری رگوں میں گھلتی جا رہی ہے آنکھوں کے نیچے پڑے حلقوں کی کہانی کوئی نہیں جانتا یہ ان شکستہ جنگوں کے سبب ہیں جو تم سے لڑے بغیر میں ہار چکی ہوں بالوں میں اتری ہوئی چاندنی اس چیز کا پختہ ثبوت ہے کہ میں کچھ ہی عرصے میں ہزاروں برس جی چکی ہوں میرا وجود لمحہ با لمحہ ریزہ ریزہ ہوتا جا رہا ہے تمہارے وجود سے مجھے ملنے والی اذیتیں بے تحاشا ہیں میں جان چکی ہو اس پل کی اذیت کو جب کوئی جان سے عزیز چھوڑ جائے اور پلٹ کر نہ دیکھے کبھی کبھی وجود میں اس قدر درد ہوتا ہے کے پانی کا قطرہ جسم پر پڑتے ہی تکلیف آغاز ہوتا ہے اور  اختتام دل پر ہوتا ہے تم وہ شخص ہو میری زندگی کے کہ تمہیں کھونے کے بعد تمام اشیاء ملائی جائے تب بھی اس کا خسارہ مکمل نہ ہوسکے  چاہتے ہوئے بھی تم میرے تخت لاشعور میں نا جا سکےعمرِ رفتہ نے بہت سے سبق آگاہی دی  بہت سے اسباق کچی عمر میں ہی سیکھ لیے کوئی رنگ مجھ پر جچتا ہی نہیں  بھلا چہرے کی رونق چھین جانے کے بعد بھی کوئی پرنور رہ سکا ہے میرے بخت کے ستارے ایک عرصہ میری مخالفت میں رہے وقت نے یہ بھی بتا دیا کہ  درخت پر دھاگہ باندھنے سے کوئی مل نہیں جاتا مگر عین ممکن ہے کہ درخت سوکھ جاتا ہے بخت کی سیاہی سے صبر کرنا آسان نہیں ہوتا اللہ نے صبر پر اجر رکھا ہے مگر عین ممکن ہے کہ میں تمہارے صبر سے اللہ کی قربت میں چلی جاؤ  خیر پر سکون رہو اللہ سے دعا کرتی ہوں تم جہاں رہو خوش رہو کیونکہ لازم نہیں محبت مل جائے میں نے محبت کی تھی نہ کہ تجارت کہ مجھے بھی ویسے ہی واپس ملتی تمہیں خوش دیکھنا بھی میری محبت ہے جہاں تک بات ہے نادان آنکھوں کی تو وقت کے ساتھ ساتھ میں ان کو بھی سمجھا لوں گی میں تمہیں معاف کرتی ہوں ہر اس اذیت تکلیف دکھ درد جس کا سبب تم بنے میں تمہیں ہر طرح کے آدھے ادھورے وعدے سے آزاد کرتی ہو  کیوں کہ میرا ذہن نفرت کا تصور نہیں رکھتا آپ جس کو چاہتے ہو لازم نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ  تاحیات رہے  محبت میں انسان اپنی زندگی کے حسین لمحات ضرور سجاتا ہے مگر لازم نہیں ہر چیز مکمل ہوجائے میں تم سے محبت کرتی ہوں تم سے نفرت کا کبھی تصور نہیں رکھا نہ تجارت کا کہ مجھے بھی اتنی ہی واپس ملتی جتنی میں نے کی تھی میں تمہیں آزاد کرتی ہوں ہر طرح کے شکستہ جال سے میں تمہیں ذات کرتی ہوں  جاؤ میں تمہیں آزاد کرتی ہوں آزاد کرتی ہوں

 تعارف : فاریہ علی

 

سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں