تحریر : پوشیدہ

تاریخ شائع 04-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

پوشیدہ, پوشیدہ. پوشیدہ

پوشیدہ

افسانہ

ازقلم فاریہ علی

-----------------------------

کئی بار دل پہ نازیب دیداہ سے زخم لگ جاتے ہیں جسے مٹاتے مٹاتے عمر گزر جاتی ہے مگر دل نہ کو سکون آتا ہے اور نہ روح کو آہ لب سے نکلتی تو ہے مگر سمجھ میں آتا نہیں کہ آہ  ٹوٹ جانے سے نکلی ہے یا پھر برداشت کرنے کی صلاحیت اختتام پذیر ہوتی جارہی ہے سب الفاظ منہ سے نکلے ہوئے یقینا باکمال نہیں ہوتے مگر دل سے نکلے ہوئے الفاظ حقیقت پر مبنی ہوتے ہیں اپنے آپ میں کمال رکھتے ہیں مگر دل کی تکلیف ہر خواہش کے ٹوٹتے ہی بڑھ سی جاتی ہے عمر دراز کے سجے خواب منٹ میں بکھر جاتے ہیں گویا کانچ سے نازک تھے جسے مضبوط اعصاب کے مالک نے دیکھا تھا حقیقتا عرصہ لگ گیا مجھے خود کو محسوس کرتے کرتے مگر سوائے خالی دل اور نمی والی آنکھوں کے کچھ نہ پا سکی میری حقیقت فقط  آئینہ جانتا ہے عکس دیکھنا کمال نہیں ہوتا عکس کو سمجھنا کمال ہے میری مسکراہٹ کے پیچھے پوشیدہ دکھ یقینا میرے رخ شہوار پر زیب نہیں دیتے اگر الفاظ کا حقیقی چناؤ کر کے بیان کرو تو ہاں میں دو چہرے رکھتی ہوں اور دل چاند کی چاندنی  سا صاف شفاف ہے میرا دکھ سننے کی خواہش عرصہ دراز سے بے شمار لوگ کر چکے ہیں مگر میں خود کا تماشا بنانا نہیں چاہتی میں واقف ہوں لوگوں سے باخوبی اسی لیے میں سب اللہ کو بتا دیتی ہوں پختہ یقین ہے اس پاک ذات پہ جو اس نے چنا میرے لیے وہ میری خواہش سے بہتر ہے اور میری سوچ سے پرے میرے چشمے دید سے میرے دکھ تکلیف کا اظہار لازمی ہوتا ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ میرا روا روا بیان کردے کے ماجرا کیا ہے روح نے کیا کیا برداشت کیا ہے وہ روح جانے مگر اپنی ذات پر کبھی آیاں نہیں ہونے دیا   جانتی ہو لوگ بہت سی باتیں کرتے ہیں نشانہ تنقید دل پر کئی ضربے الفاظ کے ذریعہ لگا دیتے ہیں مگر اب معاملہ اللہ کے حوالے ہے اور اللہ کے حوالے کیے ہوئے معاملات کبھی دکھ بھرا انجام نہیں رکھتے لوگ جو مرضی بولے مگر میرا اللہ میرے دل کے پوشیدہ حصے کو بھی جانتا ہےجو مرضی گفتگو کریں میرے بارے میں مگر میں جانتی ہوں میں اپنی مثال آپ ہو ایک عرصہ تشنہ لب کی مانند رہی ہو میری ذات درحقیقت میں خود کو میسر نہ تھی ایک عرصہ خوابوں کی سلطنت قائم رکھی میں نے مگر دنیا کو قریب سے دیکھ کر باخوبی اندازہ کر چکی ہوں کہ دنیا میں فقط مایا ہے مایا میں سب فریب جانتی ہوں مگر اللہ سے دعا ہے میری کہ اللہ مجھے ان فریبوں سے دور ہی رکھیے پھر باقی سب اللہ کے حوالے وقت انسان کی عمر کے ساتھ ساتھ اس کی سوچ صلاحیت خود میں ڈھال لیتا ہے    مگر انسان کی سانسوں کا کوئی بھروسا نہیں اگرچہ اللہ نے مجھے موقع دیا تو کچھ سوال ادھورے ہیں میں انہیں وقت کی رفتار کے ذریعہ ضرور دریافت کروں گی.

تعارف : فاریہ علی

 

سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں