تحریر : وقت کا کھیل

تاریخ شائع 04-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

وقت کا کھیل, وقت کا کھیل. وقت کا کھیل

وقت کا کھیل

 ازقلم فاریہ علی 

آج اتنی شدت سے گھٹن محسوس ہوئی یقین مانو ایسا لگا جیسے کوئی مٹی تلے دفنا گیا ہو گھٹن  کی شدت اس قدر تھی کہ آنکھ کھل گئی تو خود کو اندھیرے والے کمرے میں پایا  کمرہ تو بہت لمبا معلوم ہو رہا تھا مگر اندھیرے کی شدت سے دل گھبرا گیا سارے لوگوں کو آواز لگائی سارے رشتے نتے جو  جان سے زیادہ عزیز تھے سب کو بلایا  مگر شاید وقت بازی لے جا چکا تھا کوئی نہ آیا پھر میں نے اپنے آپ کو محسوس کیا تو مجھے کسی سفید سی لمبی سی چادر میں لپیٹ دیا گیا تھا پہلے پہل تو میں گھبرا گئی کہ یہ کیا ماجرہ ہے جو میرے ساتھ رونما ہو رہا ہے ذرا سے خود کے ہوش و حواس بحال کیے رفتہ رفتہ  ہر چیز کا معلوم ہوتا جا رہا تھامیرے انگوٹھے کس چیز سے بندھے ہوئے تھے شاید کوئی سفید سی ڈور تھی ہاتھوں کو ہلانے کی کوشش کی تو ناکام رہی ہاتھ میرے سیدھے تھے گویا کہ میں نماز کی نیت میں ہوں سر پر بھاری پن محسوس ہوا تو یوں معلوم ہوا کہ جیسے سفید کپڑا زیادہ پڑ گیا ہوں  اور کسی چیز کا منہ بند کرنے کے لئے ڈور باندھی گئی ہو میری بوکھلاہٹ  میرے چہرے پر صاف ظاہر تھی میری زندگی جن رشتوں کے گرد گردش کرتی رہی اب ان میں سے کوئی بھی میرے پاس موجود نہ تھا میرا ذہن حقیقت تسلیم کرنے کا روادار نہ تھا میرے لیے یہ مرحلہ کسی اذیت سے کم نہ تھا شاید اب یہی میرا حقیقی گھر تھا جہاں مجھے تا قیامت رہنا تھا  میرا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا میں اس امید سے خود کو وابستہ کر بیٹھی کہ کوئی عزیزوں تر اکر حوصلہ دے کر لے جائے گا مگر فیصلہ ازل کو کون ٹال سکتا تھا  اب تو حالات بدل چکے تھے اتنے میں میری نظر سامنے سے آتے دو سفید پوش پر پڑی تو میں گھبرا گئی میرے ذہن نے اب پختہ یقین کر لیا تھا کہ اب تو کوئی سانحہ رونما ہو چکا ہے دونوں نے آتے ہی عربی بولنا شروع کر دی قدرت کا قانون مجھے سمجھ بھی آرہی  تھی جب خود کی زبان کھولی تو  عربی کے الفاظ ادا ہوئے  ایک طویل سوال و جواب کے بعد وہ دونوں چلے گئے میں پھر تنہا رہ گئی اتنے میں ایک آواز بلند ہوئی نہ جانے یہ آواز کہاں سے بلند ہوئی تھی دل یک دم خوف کی شدت سے لرز گیا شاید ابھی فیصلہ حقیقی ہونا باقی تھا اتنے میں خوف کی شدت سے میری آنکھ کھل گئی خود کو پسینے میں شرابور پایا اذان فجر ہو رہی تھی جلدی سے اٹھ کر میں نے نماز کی نیت کی تو دل کو بڑا حوصلہ ہوا کہا بھی میرے رب مجھ پر توبہ کے دروازے کھلے ہوئے ہیں دل کی تسکین کے لیے ابھی یہی بات کافی تھی کہ میں زندہ ہوں اور رب کے حضور کھڑی اپنے گناہوں کی معافی کی طلبگار اور اس کی رضا کی منتظر ہوں

تعارف : فاریہ علی

 

سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں