تحریر : وقت اور زندگی کی دوڑ

تاریخ شائع 04-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

وقت اور زندگی کی دوڑ, وقت اور زندگی کی دوڑ. وقت اور زندگی کی دوڑ

وقت اور زندگی کی دوڑ

ازقلم فاریہ علی

 کچھ رشتے زندگی میں مٹھی سے

ریت کی مانند پھسلتے چلے گئے 

آج خود کی زندگی پر نظر ثانی کی تو بے حد حیرت ہوئی کتنے رشتے ناطے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدل سے گئے تھے بہت سے رشتے زندگی کی دوڑ میں بعید ہوں گے اور کچھ رشتے زندگی میں مٹھی سے ریت کی مانند پھسلتے چلے گئے   افسوس تو بہت ہوا مگر کیا کیا جا سکتا تھا اور ایک زندگی ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہی ایسے بھاگی جارہی ہے جیسے گویا گھڑی میں سویاں زندگی کی دوڑ شروع ہوئے اٹھارہ سال بیت گئے معلوم ہی نہ ہو سکا بچپن تو خواب سا لگتا ہے کے کبھی ان چلتی سانسوں کے ساتھ حسین لمحات بچپن میں بسر کیے ہیں وقت لڑکپن کی دہلیز پر ہے اور زندگی کی آنکھ مچولی نہیں ختم ہو رہی اگر کبھی ان رقیبوں کو یاد کرو جو اسکول کے وقت ہر شرارت میں ایسے ساتھ ہوتے کہ گویا نیکی کی دعوت عام ہو اور دکھ ہوا اس وقت جب وقت با وقت چہرے نے اپنے نقوش بدل لیے عادتیں پاگل پن نادانیاں شرارتیں رفتہ رفتہ پیچھے رہ گئی اور ان رقیبوں سے زندگی کہ موڑ پر ملاقات ہوئی تو اپنا تعارف گویا اس طرح دیا کہ کسی نے آنے والے کو دیا جاتا ہے مگر اب کیا کر سکتے تھے وہ دل جو کبھی جیب میں پانچ روپے  کا سکہ رکھ کر خود کو بڑا امیر محسوس کرتا تھا آج بڑی بڑی خواہشات اور امید وابستہ ہونے کے باوجود اس دوڑ میں اکیلا کھڑا ہے اور اس انجانی دوڑ کا حصہ ہے میری زندگی ان رشتوں کے گرد گردش کر رہی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ چہرے سے نقاب ہٹا رہے ہیں روز نیا رنگ دکھاتے ہیں ایسے تبدیل کرتے ہیں تیور اپنے گویا کہ لباس تبدیل کررہے ہو معلوم ہے بہت سے رشتے ایسے بھی زندگی میں شمار ہیں  بالکل تشنہ لب کی مانند ہیں اگر وقت پیار عزت نہ دی جائے تو بالکل اس تشنہ لب کی مانند گہری لکیروں میں مبتلا ہو جائیں گے میں مانتی ہوں مجھے ابھی ان رشتوں کو سمجھنے کے لئے وقت درکار ہے مگر کیا کروں جو عقل کے اوصاف وقت سے پہلے سب بتا رہے ہیں یہ عمر نہ تھی لوگوں کی حقیقتیں جاننے کی مگر کیا کروں جو مجھے آنکھوں کے راز پڑھنے آتے ہیں یہ تو پوشیدہ کہانیاں ہیں دلوں کی کیا ہوا جو لوگ اوپر سے میٹھی اندر سے سانپ ہوتے ہیں یہ غلط بات ہے جو معاشرہ کہتا ہے کہ عمر کے ساتھ تجربات آتے ہیں مگر میرا ماننا یہ ہے کہ تجربات عمر دیکھ کر نہیں آتے شاید اسی کا نام زندگی ہے جو وقت اور اس کی رفتار سے بھی زیادہ تیز دوڑی  جا رہی ہے-


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں