تحریر : ضمیر

تاریخ شائع 04-06-2021, تصنیف کردہ : فاریہ علی (Fariya)
درجہ بندی:

ضمیر, ضمیر. ضمیر

ضمیر 

ازقلم فاریہ علی 

 آج اندر سے شدت پسند آواز آئی شاید اس کو ضمیر کہتے ہیں ہاں اگر حقیقت بولو تو وہ ضمیر آج کل ہم سب میں سے ختم ہوگیا ہے  مجھے میرا ضمیر ملامت کر رہا تھا کہ پانچ سالہ بچی اور حرکت اتنی گری ہوئی ہوگی اس کے ساتھ  کہ جی میں آیا سب کو گولی سے اڑا ڈالو مگر خود کو بے بس پا کر خاموشی اختیار کر گئی مگر میرا ضمیر  کہاں خاموشی  اختیار کر سکتا تھا میں بولنے پر بے بس ہو گئی جی میں آیا کہ اللہ سے دعا کرو یا اللہ کی قیامت نازل کر دے پھر میرا ذہن سوچوں میں الجھ سا گیا  پھر دماغ تیزی سے کام کرنے لگا کہ فرعون کے پیروکار ہمارے معاشرے میں موجود ہیں اور فرعون سے بھی بدترین لوگ ہمارے معاشرے میں ہیں اور ہمارا معاشرہ خاموش ہے زینب پہ جو گزری ہم نہیں جانتے مگر ایک کو سزا دلوآنہ کافی نہ ہوگا گل بانو پر جو گزری ہم خاموش رہے آٹھ سالہ بچی ماں باپ کو مٹی تلے ملی اور ہم خاموش رہے  موٹروے پر عورت پر کیا گزری اور ہم خاموش رہے گیارہ ماہ کی بچی اس پر کیا گزری اور ہم خاموش ہے میرے معزز مہمانوں معذرت کے ساتھ میں سچ بولو  گی مگر سب کو بری لگو گی مگر مجھے فرق نہیں پڑتا میں حقیقت پسند ہوں اور حقیقت پر ہی لکھوں گی سچ بتائیں آپ خاموش ہیں یا آپ کا ضمیر مر گیا ہے میری پکار کسی نئی جنگ کی نہیں ہے یا آزادی کے لیے نہیں ہیں میں اس ہی آزادی میں مطمئن اور پرسکون ہو جو آزادی ہمیں چودہ سو سال پہلے دی جا چکی ہے میرے قدم اس پر ہی پختہ ہے  جو آزادی ہمیں مل گئی ہے میری آواز اس گند حوس کے خلاف ہیں جو ہمارے معاشرے کو نگلتی جا رہی ہے اے میرے ساتھ مل کر آواز اٹھائے تاکہ کل کو کوئی ننھی  کلی نیا پھول نہ مرجھا جائے تاکہ کل کو کوئی عورت یا کوئی اور  یہ نہ کہ سکے کے عورت مجبوری کا دوسرا نام ہے


تعارف : فاریہ علی

 سفر زندگی آسان نہیں ہے لوگوں کے دیے ہوئے دکھ درد تکلیف حد سے تجاوز کر جائے تو انوکھی صورت اختیار کر جاتے ہیں اور پھر اختیار آپ کے پاس ہیں اس کو طاقت بنا لیں اور پہلے سے زیادہ طاقتور ہو کر لوگوں کے سامنے امٹ کرائیں یا پھر آپ  ہتھیار ڈال دے زندگی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں میرا نام فاریہ علی ہے 2002میں سیال  راجپوت گھرانے میں آنکھ کھولی قدر مطلق کا احسان کے اسلامی گھر آنے میں اس روح ازل کو بھیجا لکھنے کا شوق تو شروع سے ہی تھا کچھ کرم اپنوں نے اور لوگوں نے کیا کہ اس نے باقاعدگی سے ایک صورت اختیار کرلی 2017 سے لکھنے کا آغاز کیا بس صحیح انسان کی تلاش تھی جو میرے ہنر کو پہچان کر اس چیز کو عملی جامہ پہنائے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں