تحریر : محبت

تاریخ شائع 13-09-2021, تصنیف کردہ : شیخ ہابیل (SheikhHabeel)
درجہ بندی:

Muhabbat, محبت. محبت

محبت

ازقلم: شیخ ہابیل

کہا جاتا ہے کہ محبت پر وہی لوگ لکھ سکتے ہیں جنہوں نے کبھی محبت کی ہو. جنہوں نے کبھی محبت نہ کی ہو وہ محبت کے بارے میں کچھ نہیں لکھ سکتے. لیکن میں شاید وہ واحد انسان ہوں جو محبت کیے بغیر ہی محبت پر لکھ رہا ہوں. 

ہر انسان کو کسی نہ کسی سے محبت ہوتی ہے اور جس کو کسی سے محبت نہ ہو میرے خیال میں وہ انسان ہی نہیں ہے. اب آپ کے ذہن میں یہ سوال آرہا ہوگا کہ میں نے بھی تو محبت نہیں کی تو کیا میں بھی انسان نہیں ہوں؟ تو میں آپ کو بتادوں کہ ویسے تو میں انسان ہی ہوں لیکن اگر آپ مجھے جانور یا ایلین(Alien) بھی سمجھیں تو کوٸ بات نہیں میں برا نہیں مانوں گا.

میں نے ایسے بہت سے لوگ دیکھے ہیں جو بہت خوبصورت ہیں لیکن پر بھی وہ لوگ محبت میں کامیاب نہ ہوسکے، اور میں نے ایسے لوگ بھی دیکھے ہیں جن کے پاس نہ پیسہ ہے نہ گاڑی اور نہ ہی اچھی صورت لیکن پھر بھی ایک چیز ہے جس میں وہ کامياب ہوۓ ہیں اور وہ ہے ”محبت“، اس بات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ محبت صورت سے نہیں ہوتی بلکہ محبت انسان  کی سیرت سے ہوتی ہے اگر کوٸ انسان کسی کے چہرے کو دیکھ کر اس سے محبت کرتا ہے تو وہ یہ بات جان لے کہ اُس کی یہ محبت کبھی کامياب نہیں ہوگی. صورت سے محبت کرنے والا شخص درحقيقت جسم کا بھوکا ہوتا ہے. 

کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اگر محبت میں ناکام ہوجاٸیں تو پوری دنیا میں یہ کہتے پھرتے ہیں کہ محبت نہ کرنا محبت میں ہمیشہ دھوکے ملتے ہیں، اس طرح کے لوگ خود ہی غلط انسان سے محبت کرتے ہیں اور پھر ہر جگہ کہتے پھرتے ہیں کہ محبت نہ کرنا. میرے خیال میں ہر محبت کامياب ہوتی ہے بس شرط یہ ہے کہ محبت دونوں طرف سے ہو.

کہتے ہیں کہ محبت صرف ایک دفعہ ہوتی ہے، یہ بات بالکل بکواس ہے. ایک انسان کو کٸ دفعہ محبت ہوتی ہے. عباس تابش کہتے ہیں کہ ہزار محبت کرو لیکن اتنا دھیان رہے کہ تم کو پہلی محبت کی بددعا نہ لگے. 

کسی سے محبت تب ہوتی ہے جب اس کو پوری توجہ سے دیکھا جاۓ، لیکن اگر آپ کسی کو توجہ سے نہیں دیکھتے تو آپ کو اس سے محبت نہیں ہوگی چاہے آپ اُس کو ہزار دفعہ دیکھ لیں.

محبت میں ہارے ہوۓ انسان کا دکھ درد وہ شخص ہرگز محسوس نہیں کرسکتا جسنے کبھی محبت نہ کی ہو شاید اِسی لیے میں محبت کی باتیں سن کر ہنس پڑتا ہوں.

جیسا کہ میں نے اوپر لکھا ہے کہ محبت پر وہی شخص لکھ سکتا ہے جس نے محبت کی ہو دیکھا جاۓ تو یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ جو باتیں میں نے لکھی ہیں وہ قلم سے لکھی ہیں، لیکن اگر یہی باتیں کوٸ عاشق لکھتا تو اپنے دل سے لکھتا. وہ اپنے جذبات کو کاغذ پر اتار دیتا وہ اس انداز میں لکھتا کہ پڑھنے والے کو اُس سے محبت ہوجاتی.

 

متعلقہ اشاعت


تحریر

تحریر

تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں