تحریر : ویلنٹاٸن ڈے

تاریخ شائع 10-02-2022, تصنیف کردہ : شیخ ہابیل (SheikhHabeel)
درجہ بندی:

Valentine Day, ویلنٹاٸن ڈے. ویلنٹاٸن ڈے

ویلنٹائن ڈے

ازقلم: شیخ ہابیل

انگریزوں کا یہ تہوار جس کا نام ”ویلنٹاٸن ڈے“ ہے مکافاتِ عمل کی ایک مثال ہے. اِس تہوار میں ہمیں بیغرتوں، کمینوں اور بےحیاٶں کا پتا چلتا ہے. جتنی بےصبری سے بےحیا لڑکے اِس دن کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں اتنی ہی بےصبری سے ان کی ماں یا بہن بھی اِس دن کا انتظار کر رہی ہوتی ہیں اگر ماں اور بہن نہیں تو ایک عرصے بعد پیدا ہونے والی اُن کی بیٹی ضرور اِس دن کا انتظار کریگی.  ہوٹل کے جس روم میں بےحیا لڑکا اور بےحیا لڑکی اپنا دن گزار رہے ہوتے ہیں اسی ہوٹل کے کسی روم میں اُس بےحیا لڑکے یا اُس کی بےحیا محبوبہ کی ماں یا بہن اپنے کسی عاشق کے ساتھ سوٸ ہوٸ ہوتی ہیں.

میرا خیال ہے کہ انگریزوں نے یہ تہوار خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے لیے ایجاد کیا ہے. اِس تہوار کی لذت تو ذرا سی دیر کی ہے لیکن سزا شاید زندگی بھر ملیگی. افسوس کی بات یہ ہے کہ اِس تہوار کا شکار مسلمان بھی ہوچکے ہیں اور اب بھی نہ جانے کتنے مسلمان اِس تہوار کا انتظار کر رہے ہیں، کوٸ شک نہیں کہ اس تہوار کا انتظار کرنے والے بےحیا لڑکوں کی ماٸیں بہنیں بھی اِس تہوار کا انتظار کر رہی ہیں.

میں یہاں پر آپ لوگوں کو سہیل کی ایک بات ضرور بتانا چاہوں گا، وہ کہتا ہے کہ مجھے کبھی کسی سے محبت نہیں ہوٸ لیکن اگر کبھی ہوٸ تو میں اُس لڑکی سے نکاح کروں گا نہ کہ ”ویلنٹاٸن ڈے“ پر بیہودہ کام کرکے خود کو بیغرتوں میں شمار کرواٶں گا. وہ وقت دور نہیں جب اِس بیہودہ تہوار کی وجہ سے نکاح بالکل کم ہوجاۓ گا اور خاندانی نظام بھی ختم ہوجاۓ گا، اور انگریزوں کا منصبوبہ مکمل طور پر کامياب ہوجاۓ گا.

ہمارا ملک جس کا نام ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے لیکن یہاں بھی کٸ جگہوں پر اِس بیہودہ تہوار کو منایا جاتا ہے، اور پھر بےحیا لڑکے اپنا پورا دن ناپاک کرنے کے بعد اُس دن کی تفصيل اپنے دوستوں میں اِس طرح بیان کرتے ہیں مانو انہوں نے بہت نیک کام کیا ہے، اور اُن بےحیا لڑکوں کے بےحیا دوست بھی یہ تفصيل اتنے مزے سے سن رہے ہوتے ہیں کہ مانوں اُن کے بےحیا دوست نے واقعی بہت نیک کام کیا ہے.

دنیا میں کٸ ایسی ریاستیں ہیں جہاں حجاب پر پابندی ہے لیکن ہمارا ملک جو ایک اسلامی ریاست ہے یہاں حجاب لگانا تو دور کی بات اُلٹا بیہودہ سوچ رکھنے والی کچھ عورتيں ”میرا جسم میری مرضی“ کے نعرے لگاتی ہیں اور یہ کہتی ہوٸ نظر آتی ہیں کہ جس مرد کو بھی پرابلم ہے وہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لے، ایسی سوچ رکھنے والی عورتوں سے میری ایک گزارش ہے کہ ذرا اُس ملک میں جا کر دیکھیں کہ مسلمان عورتوں کا کیا حال ہے جہاں حجاب لگانے پر پابندی ہے، اور میں آپ لوگوں کو ایک بات اور بتادوں کہ یہی سوچ رکھنے والی عورتيں ”ویلنٹاٸن ڈے“ پر کسی ہوٹل کے کسی روم میں اپنے بےحیا عاشق کے ساتھ اپنا پورا دن حرام کر رہی ہوتی ہیں. اِس تہوار کو منانے والے بیغرتوں کے بارے میں، میں اور کیا لکھوں. میرا یہ آرٹيکل پڑھنے کے بعد آپ کو یہ تو پتا چل گیا ہوگا کہ میرے ذہن میں اِس تہوار کو منانے والے بےحیاٶں کے لیے کتنی نفرت ہے. آخری بات یہ کہ اگر کسی کو میرے اِس آرٹيکل سے پرابلم ہے تو وہ اپنا ذہنی علاج کراٸیں اُنہیں علاج کی سخت ضرورت ہے.

متعلقہ اشاعت


تحریر

اس تحریر کے بارے میں اپنی رائے نیچے کمنٹ باکس میں لکھیں